بیت بازی — Page 292
292 ۲۲۳ ۲۲۴ ۲۲۵ ۲۲۶ ۲۲۷ ۲۲۸ ۲۲۹ ۲۳۰ ۲۳۱ ۲۳۲ ۲۳۳ ۲۳۴ ۲۳۵ ۲۳۶ ۲۳۷ ۲۳۸ ۲۳۹ ۲۴۰ ۲۴۱ ۲۴۲ ۲۴۳ وہ یار؛ جس کی محبت پہ ناز تھا مجھے کو کوئی بتاؤ کہ کیوں ہو رہا ہے بیگانہ وہ اپنا سر ہی پھوڑے گا؛ وہ اپنا خون ہی بیٹے گا دشمن حق کے پہاڑ سے گر ٹکراتا ہے؛ ٹکرانے دو وہ تم کو حسین بناتے ہیں؛ اور آپ یزید کی بنتے ہیں یہ کیا ہی سستا سودا ہے؛ دشمن کو تیر چلانے دو وہ ہم سفر تمھارا؛ آنکھوں کا میری تارا اللہ کا صفی ہو؟ اللہ کا ہو پیارا وہ ہے ایک؛ اُس کا نہیں کوئی ہمسر وہ مالک ہے سب کا؛ وہ حاکم ہے سب پر وہ زندہ ہے؛ اور زندگی بخشتا ہے وہ وہ اسلام؛ دنیا کا تھا جو محافظ قائم ہے؛ ہر ایک کا آسرا ہے ہے وہ خود آج محتاج امداد کا وہ دل مجھے عطا کر؛ جو ہو نثار جاناں جو ہو فدائے دلبر؛ وہ جان مجھ کو دے دے وہ گئے تھے تو خیر جانا تھا دل میرے دل وہ کیوں میرا اختیار گیا کو؛ کیا عاشق بھی معشوق کا شکوہ ہیں چٹکیوں میں مل مل کر یوں فرماتے ہیں اپنی زباں لاتے پر وَلَكِنَّ فَصْلَ اللَّهِ جَاءَ لِنَجْدَتِي وَانقَـــــذنـــــى مــــن زَيَّةِ الأقــــدام وہ یار کیا جو یار کو دل سے اُتار دے وہ دل ہی کیا؟ جو خوف سے میدان ہار دے وہ سیم تن جو خواب میں ہی مجھ کو پیار دے دل کیا ہے؛ بندہ جان کی بازی بھی ہار دے وحشت سے پھٹ رہا ہے مرا سر مرے خُدا اس بے قرار دل کو ذرا تو قرار دے وہ عاشقوں کیلئے بیقرار ہیں خود بھی وہ بیقرار دلوں کو قرار دیتے ہیں جیتنے یہ پہ ہوں مائل ؛ تو عاشق صادق خوشی سے جان کی بازی بھی ہار دیتے ہیں وہی فلگ پہ چمکتے ہیں بَن کے شمس وقمر جو در پہ یار کے عمر میں گزار دیتے ہیں وہ ایک آہ سے بے تاب ہو کے آتے ہیں ہم اک نگاہ پہ سو جان ہار دیتے ہیں وہ وہ تو بے پردہ ہوگئے تھے مگر حيف دل ہی آئینہ : بنا وہ کیا صورت ہے جس سے میں نگاہ لطف کو پاؤں چھوؤں دامن کو تیرے یا ترے پاؤں پڑوں ساقی وہ مہ رُخ آگیا خود پاس میرے لگائے چاند مجھ کو بے بسی نے