بیت بازی — Page 290
290 ۱۸۰ ۱۸۱ ۱۸۲ ۱۸۳ ۱۸۴ ۱۸۵ TAY وہ جو رہتا ہے ہر اک وقت میری آنکھوں میں ہائے! گم بختی؟ مجھے اس کا پتہ یاد نہیں نکات معرفت بتلائے کون جام وصل دار با پلوائے کون وہ گل رعنا ہی جب مُرجھا گیا پھر بہار جانفزا پھر بہار جانفزا دکھلائے کون وه وہ ہے مجھ میں نہاں ؛ غیروں سے پردہ ہے اُسے لازم تبھی تو چشم بد بیناں سے میں مستور رہتا ہوں وہی ہے طرز دلداری؛ وہی رنگِ ستم گاری ستجتس کیوں کروں اس کا؛ کہ ہے یہ کون محمل میں وصل مولی کے جو بھوکے ہیں، انہیں سیر کرو وہ کرو کام؛ کہ تم خوانِ ہدی ہو جاؤ وہ قید نفس ونی سے مجھے چھڑائیں گے کب رہائی پنجہ غم سے مجھے دلائیں گے کب وہ میرے چاک جگر کا کریں گے کب درماں جو دل پر داغ لگے ہیں؛ انھیں مٹائیں گے کب ریق ہے اُن کا؛ وہ ہیں بڑے محسن لگا کے منہ ؛ نظروں سے مجھے گرائیں گے کب ۱۸۹ وہ تو بے پردہ ہے؛ پر آنکھیں ہیں بند کام آساں ہے؛ مگر دشوار ہے 1^2 ۱۸۸ وفا ١٩٠ ۱۹۱ ۱۹۲ ۱۹۳ ۱۹۴ ۱۹۵ وہی ہے و آرام دل کا راحت اُسی ޏ رُوح کو ہے شادمانی وہی ہے چارہ آلام ظاهر نہانی وہی تسکیں ورد دل سے مانتے ہیں اُس کی خُوبی وہ پاتے ہیں اسی میں دل کی تسکیں وہ وہ ہم میں قوت قدسی ہو پیدا جیسے چھوویں؛ وہی ہو جائے اکسیر وہ جذبہ ہم میں پیدا ہو الہی جو دشمن ہیں؛ کریں اُن کی بھی تسخیر وہی بولیں جو دل میں ہو ہمارے خلاف فعل ہو اپنی نہ تقریر وہ مری آنکھوں کی ٹھنڈک میرے دل کا نُور ہے ہے فدا اُس شُعلہ رُو پر میری جاں پروانہ وار ۱۹۷ وہ اگر خالق ہے؟ میں ناچیز سی مخلوق ہوں ہر گھڑی محتاج ہوں اُس کا؛ وہ ہے پروردگار وہ ہے آقا میں ہوں خادم وہ ہے مالک میں غلام میں ہوں اک ادنی رعایا؛ اور وہ ہے تاجدار وہ تو کچھ رکھتی بھی تھی ، پر میں تو خالی ہاتھ ہوں بے مکمل ہوتے ہوئے ہے؛ جستجو ئے دست یار ۱۹۶ ۱۹۸ ۱۹۹ ۲۰۰ ۲۰۱ واں تھے وعدے خوب تر یاں حالت ادبار ہے وہ گاؤں گا تیری تعریف میں ترانہ حمد رہے گا ساز ہی باقی نہ پھر گلو باقی