بیت بازی — Page 16
16 ۲۵۴ ۲۵۶ ۲۵۷ ۲۵۹ ۲۶۰ ۲۶۱ ۲۶۲ ایک طوفاں ہے خدا کے قہر کا اب جوش پر نوح کی کشتی میں جو بیٹھے؛ وہی ہو رستگار ۲۵۵ اے کہ ہر دم بدگمانی تیرا کاروبار ہے دوسری قوت کہاں گم ہوگئی اے ہوشیار! اس تعصب پر نظر کرنا کہ میں اسلام پر ہوں فدا؛ پھر بھی مجھے کہتے ہیں کافر بار بار ایسے کچھ سوئے ؛ کہ پھر جاگے نہیں ہیں اب تلک ایسے کچھ بھولے؛ کہ پھر نسیاں ہوا گردن کا ہار ۳۵۸ اس کے آتے آتے دیں کا ہو گیا قصہ تمام کیا وہ تب آئیگا؟ جب دیکھے گا اس دیں کا مزار اے خدا! تیرے لئے ہر ذرہ ہو میرا خدا مجھے کو دیکھلا دے بہار دیں؛ کہ میں ہوں اشکبار ایک فرقاں ہے جو شک اور ریب سے وہ پاک ہے بعد اسکے ظن غالب کو ہیں کرتے اختیار افتراء لعنت ہے؛ اور ہر مفتری ملعون ہے پھر لعیں وہ بھی ہے؛ جو صادق سے رکھتا ہے نقار ان نشانوں کو ذرا سوچو! کہ کس کے کام ہیں کیا ضرورت ہے کہ دکھلاؤ غضب دیوانہ وار ایسی سرعت سے یہ شہرت نا گہاں سالوں کے بعد کیا نہیں ثابت یہ کرتی صدق قولِ کر دگار اے خدا! شیطاں پہ مجھ کو فتح دے رحمت کے ساتھ وہ اکٹھی کر رہا ہے اپنی فوجیں بے شمار ۲۶۵ اک طرف طاعونِ خونی کھا رہا ہے ملک کو ہو رہے ہیں صد ہزاراں آدمی اس کا شکار ایک ہی دم میں ہزاروں اس جہاں سے چل دئے جس قدر گھر گر گئے ان کا کروں کیونکر شمار ۲۶۷ اس نشاں کو دیکھ کر پھر بھی نہیں ہیں نرم دل پس خدا جانے؛ کہ اب کس حشر کا ہے انتظار ۲۶۸ آسماں پر شور ہے؛ پر کچھ نہیں تم کو خبر دن تو روشن تھا؛ مگر ہے بڑھ گئی گرد و غبار اک نشاں ہے آنے والا ؛ آج سے کچھ دن کے بعد جس سے گردش کھائیں گے دیہات و شہر اور مرغزار ۲۷۰ آئے گا قہر خدا سے خلق پر اک انقلاب اک برہنہ سے نہ یہ ہوگا؛ کہ تا باندھے ازار اک جھپک میں یہ زمیں ہو جائے گی زیروز بر نالیاں خوں کی چلیں گی؛ جیسے آب رود بار ۲۶۳ ۲۶۴ ۲۶۶ ۲۶۹ ۲۷۱ ۲۷۳ وہ ربانی نشاں ۲۷۲ اک نمونہ قہر کا ہوگا آسماں حملے کرے گا کھینچ کر اپنی کٹار اس جائے پُر عذاب سے کیوں دل لگاتے ہو دوزخ ہے یہ مقام؛ یہ بستاں سرا نہیں ۲۷۴ انبیاء سے بغض بھی اے غافلو! اچھا نہیں دُور تر ہٹ جاؤ اس سے؛ ہے یہ شیروں کی کچھار ہے کیا نہیں تم میں سے کوئی بھی رشید و ہونہار ۲۷۵ آسماں پر ان دنوں قہر خدا کا جوش