بیت بازی — Page 283
283 ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ۴۱ ۴۲ ۴۳ ۴۴ ۴۵ ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ بھگتوں کو یاد وہ ناداں جو کہتا ہے در بند ہے وہ کرتا خود اپنے ہے وہ انکار کرتے ہیں الہام وہ ہے؛ اور نہ پیوند ہے نه الهام کوئی اس کے رہ میں نہیں نامراد کہ ممکن نہیں خاص اور عام سے ہیں یہ کوچہ مسدود ہے تلاش اس کی عارف کو بے سود ہے کہتے ہیں وہ غافل ہیں رحماں کے اُس داب سے وہ ہے مہربان و کریم وہ و کہ رکھتا ہے وہ اپنے احباب سے قدیر قسم اُس کی اُس کی نہیں ہے نظیر آنکھیں نہیں؛ جو کہ گریاں نہیں وہ خود دل نہیں؟ جو کہ بریاں نہیں کیا ہے؟ یہی ہے، کہ اللہ ہے ایک محمد نبی اس کا پاک اور نیک وہ وہ تن کم ہوا نشاں رہ گیا وفا دار عاشق کا ہے وہ لکھا نشاں خود پاک کرتار نے ہے وہی دیں کی راہوں کی سنتا ہے بات وہ وہ وہ ذرا دیکھ کر اس کو آنسو بہا کہ دلبر کا خط دیکھ کر ناگہاں وقیوم و غفار نے أسى۔کہ ہو متقی مرد اور نیک ذات صدق و محبت؛ وہ مہر و وفا جو نانک سے رکھتے تھے تم کر ملا کیونکر ہو ان ناسعیدوں سے شاد جو رکھتے نہیں اُس سے کچھ اعتقاد احمق ہیں؛ جو حق کی رہ کھوتے ہیں عبث ننگ و ناموس کو روتے ہیں وہ سوچیں کہ کیا لکھ گیا پیشوا وصیت میں کیا کہہ گیا پر ملا واہ رے زورِ صداقت خوب دکھلایا اثر ہو گیا نانک شار دین احمد سر بر ا واللہ خوشی سے بہتر ؛ غم سے ترے گذرنا یہ روز کر مبارک سبـــحـــــان مــــن يـــرانـــی ۵۰ ۵۲ ۵۳ ہو وہ دیں ہی کیا ہے؛ جس میں خدا سے نشاں نہ ہو تائید حق نہ ہو؛ مدد آسماں نہ وہ لوگ جو کہ معرفت حق میں خام ہیں بُت ترک کر کے؛ پھر بھی بچوں کے غلام ہیں ۵۴ وہ دے مجھ کو جو اس دل میں بھرا ہے زباں چلتی نہیں شرم و حیا ہے وہ ہوں میری طرح دیں کے منادی فسبحان الذى اخزى الاعادي ۵۵