بیت بازی — Page 282
282 وہ خدا؛ حلم و تفضل میں نہیں رکھتا نظیر کیوں پھرے جاتے ہواُس کے حکم سے دیوانہ وار وہ خدا؛ جس نے نبی کو تھا زر خالص دیا زیور دیں کو بناتا ہے؛ وہ اب مثل سنار وہی اس کے مقرب ہیں ؛ جو اپنا آپ کھوتے ہیں نہیں راہ اس کی عالی بارگہ تک ؛ خود پسندوں کو وہ ویدوں کا ایشر ہے؛ یا اک حجر کہ بولے نہیں؛ جیسے اک گنگ و کر سے اس کے ہوا فیضیاب سنا شیخ شیخ سے ذکر وہ بیعت نہیں باہر رہا اموات ہو راه صواب وہ گیا ثابت یہ تمہیں آیات سے وہ تو چکا ہے؟ تیر اکبر اس انکار ہو سکے کیونکر ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ 17 ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ وہ آج شاہ دیں ہے؛ وہ تاج مرسلیں ہے وہ طیب و امیں ہے؛ اس کی ثناء یہی ہے وہ بنتی ہے ہوا، اور ہر کس رہ کو اُڑاتی ہے وہ ہو جاتی ہے آگ ؛ اور ہر مخالف کو جلاتی ہے کے پانے سے؛ یار کو پایا خردمند، خوش خو؛ مبارک صفات وہ ہمیں دلستاں تلک لایا اس وہ تھا آریہ قوم سے نیک ذات وہ رہتا تھا اس غم میں ہر دم اُداس زباں بند تھی؛ دل میں سوسو ہراس وہ طاقت که ملتی ہے ابرار کو وہ دے مجھ کو دکھلا کے اسرار کو وہ پھرتا تھا کوچوں میں چولہ کے ساتھ دکھاتا تھا لوگوں کو قدرت کے ہاتھ وہ ہر لحظہ چوکے کو دکھلاتا تھا میں اسی وہ ساری خوشی پاتا تھا وہ اُس یار کو صدق دکھلاتے ہیں اسی غم میں دیوانہ بن جاتے ہیں وہ جاں اس کی رہ میں فدا کرتے ہیں وہ وہ وہ ہر لحظه سوسو طرح مرتے ہیں کھوتے ہیں سب کچھ ؛ بصدق و صفا مگر اس کی ہو جائے حاصل رضا نہیں اُن کا کوئی بجز یار کے ہو جاتے ہیں سارے دلدار کے وہ جاں دینے سے بھی نہ گھبراتے ہیں کہ سب کچھ وہ کھو کر اُسے پاتے ہیں رو دیتا کہہ کر کہ سب خیر ہے مگر دل میں اک خواہش سیر ہے دلبر کی آواز بن جاتے ہیں وہ اُس جاں کے ہم راز بن جاتے ہیں وہ وہ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۳ 1 1 1 ۳۲