بیت بازی — Page 280
280 ۱۸۰ INI ۱۸۲ ۱۸۳ ۱۸۴ نہ کچھ قوت رہی ہے جسم و جاں میں نہ باقی ہے اثر میری زباں میں نشان ساتھ ہیں اتنے کہ کچھ شمار نہیں ہمارے دین کا قصوں پہ ہی مدار نہیں نہ باقی رہے شرک کا نام تک بھی خدا محمود! میری دعا ہے نگاہ جن کی زمین پر تھی ، نہ آسماں کی جنہیں خبر تھی خدا سے ان کو بھی جا ملایا، دکھائی ایسی رو ہدگی ہے نہیں ہے کچھ دیں سے کام ان کا ہے یونہی مسلماں ہے نام ان کا سخت گندہ کلام ان کا ہر ایک کام ان کا فتنہ زا ہے ۱۸۵ نہ دل میں خوف خدا ر ہے گا، نہ دین کا کوئی نام لے گا فلک پہ ایمان جا چڑھے گا، یہی ازل سے لکھا ہوا ہے ۱۸۶ نہیں کہ ہے محمود! فکر اس کا اثر کس قدر کرے گا سخن کہ جو دل سے ہے نکلتا ہے وہ دل میں ہی جا کے بیٹھتا ۱۸۷ نام تک اس کا مٹا دینے میں ہے تو کوشاں اس کا ہر بار مگر آگے ہی پڑتا ہے قدم ۱۸۸ نازل ہوئے تھے عیسی “ مریم جہاں، وہاں اس وقت جاری قیصر روما کا حکم تھا نہیں چھٹتی نظر آتی میری جاں پھنسا ہوں اس طرح قید گراں میں ۱۸۹ ۱۹۰ ۱۹۱ ۱۹۲ نظر میں کاملوں کی، ہے وہ کامل اترتا ندائے دوست ہے جو پورا امتحاں میں کہ پھر جاں آگئی اک نیم جاں میں آئی کان میں کیا نہ طعنہ ظن ہو، مری بے خودی پر اے ناصح ! میں کیا کہوں کہ میرا اس میں اختیار نہیں نہیں دنیا کی خواہش ہم کو ہرگز فدا دیں پر ہی اپنا مال و جاں ہے ۱۹۴ نہیں اسلام کو کچھ خوف محمود! کہ اس گلشن کا احمد باغباں ۱۹۳ ۱۹۵ ۱۹۶ ۱۹۷ ۱۹۸ نہیں لگتے کبھی کیکر کو انگور نقش پا کو چوم نہ حنظل میں کبھی خرما لگا ہے ہے لوں گا میں تمہیں جانے دوں گا : نہیں کچھ اس کے احسانوں کا بدلہ کسی نے جان بھی دے دی، تو کیا ہے نونهالان جماعت! مجھے کچھ کہنا ہے پر ہے یہ شرط کہ ضائع میرا پیغام نہ ہو