بیت بازی

by Other Authors

Page 15 of 871

بیت بازی — Page 15

500 15 ۲۳۲ ۲۳۳ ۲۳۴ ۲۳۵ ۲۳۷ ۲۳۸ ۲۳۹ ۲۴۰ ۲۴۱ ۲۴۲ اے فقیہو عالمو ! مجھ کو سمجھ آتا نہیں یہ نشانِ صدق پا کر پھر یہ کہیں اور یہ نقار اب ذرا سوچو! کہ کیا یہ آدمی کا کام ہے اس قدر امر نہاں پر کس بشر کو اقتدار ایسے دل پر داغ لعنت ہے ازل سے تا ابد جو نہیں اس کی طلب میں بے خود و دیوانہ وار ایسے مہدی کیلئے میداں کھلا تھا قوم میں پھر تو اس پر جمع ہوتے ایک دم میں صد ہزار آگ بھی پھر آگئی جب دیکھ کر اتنے نشاں قوم نے مجھ کو کہا کذاب ہے اور بد شعار ان دلوں کو خود بدل دے؛ اے مرے قادر خدا! تو تو رب العلمیں ہے؛ اور سب کا شہریار اس جہاں میں خواہش آزادگی بے سود ہے اک تری قید محبت ہے جو کردے رستگار اے خدا! اے چارہ ساز درد! ہم کو خود بچا اے میرے زخموں کے مرہم! دیکھ میرا دل فگار اے مرے پیارے! جہاں میں تو ہی ہے اک بے نظیر جو تیرے مجنوں؛ حقیقت میں وہی ہیں ہوشیار اس جہاں کو چھوڑنا ہے تیرے دیوانوں کا کام نقد پا لیتے ہیں وہ؛ اور دوسرے امیدوار ایک کانٹا بھی اگر دیں کیلئے ان کو لگے چیخ کر اس سے وہ بھاگیں؛ شیر سے جیسے حمار اے مرے پیارے! بتا تو کس طرح خوشنود ہو نیک دن ہوگا وہی جب تجھ پہ ہوویں ہم نثار ابنِ مریم ہوں؛ مگر اُترا نہیں میں چرخ سے نیز مہدی ہوں؛ مگر بے تیغ اور بے کارزار اس کے پانے کا یہی اے دوستو! اک راز ہے کیمیا ہے جس سے ہاتھ آجائیگا زر بے شمار اس سے خود آکر ملے گا تم سے وہ پارا زل اس سے تم عرفانِ حق سے پہنو گے پھولوں کے ہار ۲۴۷ افترا کی ایسی کم لمبی نہیں ہوتی کبھی جو ہو مثل مدت فخر الرسل فخر الخيار اے عزیز و! کب تلک چل سکتی ہے کاغذ کی ناؤ ایک دن ہے غرق ہونا بادو چشم اشکبار اے خدا! کمزور ہیں ہم ؛ اپنے ہاتھوں سے اٹھا ناتواں ہم ہیں؛ ہمارا خود اٹھالے سارا بار اے مرے پیارے! ضلالت میں پڑی ہے میری قوم تیری قدرت سے نہیں کچھ دُور؛ گر یا ئیں سدھار اے مرے پیارو! شکیب وصبر کی عادت کرو وہ اگر پھیلائیں بد بو؛ تم بنو مشک تتار افترا اُن کی نگاہوں میں ہمارا کام ہے یہ خیال، اللہ اکبر! کس قدر ہے نابکار ۲۵۳ آنکھ رکھتے ہو؛ ذرا سوچو! کہ یہ کیا راز ہے کس طرح ممکن کہ وہ قدوس ہو کاذب کا یار ۲۴۳ ۲۴۴ ۲۴۵ ۲۴۶ ۲۴۸ ۲۴۹ ۲۵۰ ۲۵۱ ۲۵۲