بیت بازی

by Other Authors

Page 275 of 871

بیت بازی — Page 275

275 ۷۵ نور و بشر کا فرق مٹاتی ہے؛ تیری ذات بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر نور کی شاہراہوں سے آگے بڑھو خوں بڑھے میرا تم جو ترقی کرو؛ سال کے فاصلے لمحوں میں طے کرو قرة الـ رة العین ہو؛ سن ہو؛ سارِ باں کیلئے نبیوں کا امام آیا؛ اللہ امام اس کا سب تختوں سے اونچا ہے؛ تخت عالی مقام اس کا مکرم صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم ۷۶ 22 <^ ور نام کام نذر راوی" کی تھی میں نے کتنے ارمانوں کے ساتھ ناؤ لیکن کاغذی تھی؛ غرق راوی ہوگئی ۸۰ کلام محمود نہ یوں حملہ کریں اسلام پر لوگ ہمارے منہ میں بھی آخر زباں ہے Al ۸۲ ۸۳ ۸۴ ۸۶ نائب خیر الرسل ہو کر کرے گا کام یہ وارث تخت محمد میرزا ہو جائے گا نقش پا پر جو محمد کے چلے گا؛ ایک دن پیروی سے اُس کی؛ محبوب خُدا ہو جائے گا نظر آتے تھے میرے حال پر وہ بھی پریشاں سے یہ میرا خواب تو؛ خواب پریشاں ہو نہیں سکتا نظروں سے اپنی تم نہ گراتے، تو خُوب تھا پہلے ہی ہم کو منہ نہ لگاتے؛ تو خُوب تھا ۸۵ نہ اس کے بغض نے پیچھے ہٹا دیا مجھ کو نہ اُس کے پیار نے آگے بڑھا دیا مجھ کو نہیں یہ ہوش ؛ کہ خود اُن کے گھر میں رہتا ہوں یہ رٹ لگی ہے؛ کہ وہ میرے گھر پہ آئیں گے کب گاہ چہرہ جاناں پہ جا پڑی جن کی پھر اور لوگوں کے انداز اُن کو بھائیں گے کب ۸۸ نہیں معلوم کیا خدمت ہوئی تھی کہ سکھلایا کلام پاک یزداں نه زور و ظلم کے خوگر ہوں یارب نہ عادت ہم میں ہو جور و جفا کی ٹور اس کا جلوہ گر ہے؛ ہر در و دیوار میں ہے جہاں کے آئنہ میں منعکس تصویر یار نہ چُپ رہو کہ خموشی دلیل نخوت ہے دُعائیں مانگو؛ کہ ہے عرضِ حال میں برکت ۸۷ 19 ۹۱ ۹۲ ۹۳ ۹۴ نام لیوا رہے برباد گا تیرا کون ہم اگر اگر ہوگئے یونہی نہ دھوکا کھا ئیو ناداں ! کہ شش جہات میں بس وہی ہے چہرہ نما؛ لا إِلهَ إِلَّا الله نگاه مهر سالوں کی خصومت کو بھلاتی ہے خوشی کی اک گھڑی برسوں کی گلفت کو مٹاتی ہے