بیت بازی — Page 256
256 ۳۱۶ { ۳۱۸ مزہ دوبار پہلے چکھ چکے ہو مگر پھر بھی وہی طرز ادا ہے ۳۷ مہدی دوران کا جو خاک پا ہو جائے گا مہر عالمتاب سے روشن ہوا ہوجائے گا مکان دل میں لا کر میں غم دلبر کو رکھوں گا مُبارک اس سے بڑھ کر کوئی مہماں ہو نہیں سکتا ۱۹ معافی دے نہ جب تک وہ مرے سارے گناہوں کی جدا ہاتھوں سے میرے اُس کا داماں ہو نہیں سکتا مثال کوه آتش بار کرتا ہوں فغاں ہر دَم کسی کا مجھ سے بڑھ کر سینہ پر یاں ہو نہیں سکتا ۳۲۱ محمود دل خُدا سے لگاتے؛ تو خوب تھا شیطاں سے دامن اپنا چھڑاتے ، تو خُوب تھا ۳۲۲ مدت سے ہیں بھٹک رہے وادی میں عشق کی وہ خود ہی آکے راہ دکھاتے؛ تو خُوب تھا ۳۲۳ میں نے جس دن سے ہے پیارے ! ترا چہرہ دیکھا پھر نہیں اور کسی کا رُخ زیبا دیکھا مشتری بھی ہے ترا مشتری؛ اے جانِ جہاں اس نے جس دن سے ہے تیرا رُخ زیبا دیکھا پر بھی اس کی فکر میں آرام ہے حرام میں اُس کے غم میں خود ہوں شکار بلا ہوا ٣٢٦ مُدَّت سے پارہ ہائے جگر کھا رہا ہوں میں پارہ ہائے جگر کھا رہا ہوں میں رنج و محن کے قبضہ میں آیا ہوا ہوں میں ۳۲۷ میری کمر کو قوم کے غم نے دیا ہے توڑ کس ابتلا میں ہائے! ہوا مبتلا ہوں میں میں رو رہا ہوں؛ قوم کے مُرجھائے پھول پر بلبل تو کیا ہے؛ اس سے کہیں خُوشنوا ہوں میں مَرگِ پر یہ پیٹتی ہے جیسے ماں حالت پہ اپنی قوم کی یوں پیٹتا ہوں میں مجھے سمجھتے ہو کیا تلی تم؛ بس اب تو جانے بس اب تو جانے دو تھک گیا ہوں؛ ۳۲۴ ۳۲۵ ۳۲۸ ۳۲۹ ۳۳۰ ۳۳۱ ۳۳۲ ۳۳۳ ۳۳۴ مجھ کوئی که نت نئے بوجھ لادتے ہو غم مصیبت و اُٹھا اُٹھا کر ہو مجھ سا نہ اس جہاں میں کوئی دلفگار ہو جس کا نہ یار ہو؛ نہ کوئی غمگسار میں کیوں پھر وں ؛ کہ خالی نہیں آج تک پھرا جو تیرے فضل و رحم کا اُمیدوار ہوں ہو موسی سے تُو نے طور پر جو کچھ کیا سلوک مجھ سے بھی اب وہی میرے پرور دگار معشوق گر نہیں ہوں؛ تو عاشق ہی جان لو ان میں نہیں؛ تو اُن میں ہمارا شمار ہو ۳۳۵ میں وہ بیخود ہوں کہ تھے جس نے اُڑائے مرے ہوش مجھ کو خود وہ نگر ہوش ربا یاد نہیں ٣٣٦ مئے عشق خُدا میں سخت ہی مخمور رہتا ہوں یہ ایسا نشہ ہے؛ جس میں کہ ہر دَم چور رہتا ہوں