بیت بازی — Page 252
252 ۲۳۵ میں تجھ سے نہ مانگوں؛ تو نہ مانگوں گا کسی سے میں تیرا ہوں؛ تو میرا خدا، میرا خدا ہے ۲۳۶ ۲۳۷ ۲۳۸ ۲۳۹ ۲۴۰ ۲۴۱ ۲۴۲ ۲۴۳ اٹھی ہے مسیح بن کے وہی آسماں سے اُتری ہے جو التجا دل ناکتخدا مہدی کا دلدار محمد ، نبیوں کا سردار محمد نور نظر سرکار محمد ؟ جس کا وہ منظور نظر تھا وہ مولا نے وہ دن دکھلائے ؛ پریمی رُوپ نگر کو آئے ساتھ فرشتے پر پھیلائے ؛ سایہ رحمت ہر سر پر تھا مجھے تیری ہی قسم ہے؛ کہ دوبارہ جی اٹھوں گا تیرا نفخ روح روح؛ میرے دلِ زار تک تو پہنچے میں ئے برستی ہے؛ بلا بھیجو کہاں ساقی ہے بھری برسات میں موسم کے اشارے ہیں وہی میرے آنگن سے قضا لے گئی چن چن کے جو پھول جو خدا کو ہوئے پیارے؛ میرے پیارے ہیں وہی منتظر کوئی نہیں ہے؛ لب ساحل ورنہ وہی طوفان ہیں؛ وہی ناؤ، کنارے ہیں وہی مجھے کبھی بھی تم اتنی نہیں لگیں پیاری ہ حسن تھا ملکوتی وہ ضبط ضبط غم اعجاز مرتے ہیں جب اللہ کے بندوں کے نگہبان رہتے نہیں کیا اُن کے دُلاروں کے سہارے مسیح اُترا ہے عِندَ المَنَارَة البيضاء اُٹھو! کہ جائے ادب ہے؛ سنوار کر دیکھو ۲۴۶ محبتوں کے سمندر سے ڈوریاں کیسی لپٹ کے موجوں سے بوس و کنار کر دیکھو ۲۲۷ مری سُنو! تو پہاڑوں سے سر نہ ٹکراؤ جو میری مانو تو بجز اختیار کر دیکھو میرا ساتھ نبھاؤن تائیں ؛ کوئی راہ نہ چھڈی جیڑے رستیاں توں میں لنگیا؛ اوہی رستے ملے میرے درد کی جو دوا کرے کوئی ایسا شخص ہوا کرے وہ جو بے پناہ اداس ہو ؛ مگر ہجر کا نہ گلہ کرے ؛ ۲۴۴ ۲۴۵ ۲۴۸ ۲۴۹ ۲۵۰ ۲۵۱ مری چاہتیں، میری قربتیں؟ جسے تو وہ چھپ کے؛ یاد آئیں قدم قدم لباس شب میں لپٹ کے آہ و بکا کرے میں اُس کا فقیر ہوں آقا تو جو میرے لئے بھلا سمجھے مجھے اے کاش! ہر کوئی تیرا اور فقط تیرا ہی گدا سمجھے سفر میری جھولی میں کچھ نہیں مولا؛ زندگی کا خالی ہے ہاتھ خالی ہے نبھانے کو میں اکیلا ہوں، ساتھ خالی ہے مصر جانے کو جی مچلتا ہے؟ دست پر اکیلا ہوں، خوف کھاؤں گا لوٹ کر تب وطن کو جاؤں گا و بازو کوئی عطا کر دے؛ ۲۵۲ ۲۵۳