بیت بازی — Page 251
251 ۲۱۸ ۲۱۹ ۲۲۰ ۲۲۱ ۲۲۲ ۲۲۳ ۲۲۴ ۲۲۵ ۲۲۶ مجھ سے بڑھ کر مری بخشش کے بہانوں کی تلاش کس نے دیکھے تھے کبھی ایسے بہانے والے مجھ سے بھی تو کبھی کہہ؛ راضية مرضيه روح بیتاب ہے؛ رُوحوں کو بلانے والے میں کہاں! اور کہاں حرفِ شکایت آقا! ہاں یونہی بھول سے اُٹھتے ہیں ستانے والے میں اُن سے جُدا ہوں، مجھے کیوں آئے کہیں چین دل منتظر اُس دن کا؛ کہ ناچے اُنہیں پا کے میرے آنسو تمہیں دیں رم زندگی؛ مہماں کو ملے جو دم زندگی؛ دور تم سے کریں ہر غم زندگی وہی امرت بنے میزباں کیلئے میری ایسی بھی ہے ایک رُودادِ غم دل میں وہ بھی ہے اک گوشتہ محترم؛ دل کے پردے پہ ہے خون سے جو رقم وقف ہے جو غم دوستاں کیلئے اے دیس سے آنے والے بتا! محروم اذاں گر ہیں تو فقط مُرغانِ خوش الحان وطن کس حال میں ہیں یارانِ وطن مظلوموں کی آہوں کا دھواں ظالم کے اُفق گھلا دے گا نمرود جلائے جائیں گے؛ دیکھے گا فلک یہ نظارہ مرے بھولے بھالے حبیب؛ کیا ایک انہی کو دُکھ دیتی ہے؟ مجھے لکھ لکھ کر کیا سمجھاتے ہیں جدائی لمبے عرصوں کی؟ ۲۲۷ میری بھی آرزو ہے؛ اجازت ملے تو، میں اشکوں سے اک پروؤں غزل؛ آپ کیلئے ہو ۲۲۸ مردگاں بنیں حکایت دل کیلئے قلم روشنائی آنکھوں کا جل؛ آپ کیلئے ۲۹ میں آپ ہی کا ہوں؟ وہ میری زندگی نہیں جس زندگی کے آج نہ کل؛ آپ کیلئے سے مٹا کر کلمہ توحید؛ آئے دن شریروں کو عباداللہ کا دل برمانا آتا ہے ۲۳۰ معاد میرے ۲۳۱ ۲۳۲ ۲۳۳ ۲۳۴ دل کے افق پر ڈوب چکے ہیں؛ لاکھوں چاند ستارے روشن ہیں لیکن اُن کی یادوں نے منظر دھندلایا ہے میں ہفت افلاک کا پنچھی ہوں مرا نور نظر آ کاشی ہے تو اوندھے منہ چلنے والا ؛ اک بے مُرشد چوپایہ ہے منزلیں دے رہی رہی ہیں آوازیں صبح محو سفر ہوں؛ میرے پیارو! خدا کے پیاروں پر دائماً بھیجتے سلام شام چلو چلو