بیت بازی — Page 250
250 ۱۹۷ ۱۹۸ ۱۹۹ ملے ان کو ہر دین و دنیا کی نعمت دلوں پر ہو غالب خدا کی محبت مومن قدم بڑھا کے؛ ہٹاتے نہیں کبھی ان کو قضا کے تیر ؛ ڈراتے نہیں کبھی مردانہ وار بڑھتے ہیں؟ سینہ سپر کئے غازی عدو کو پیٹھ دکھاتے نہیں と ۲۰۰ ۲۰۲ میٹا کر گا ایک فرزند گرامی عطا کبھی ہوگی دلوں کو دلوں کو شادمانی اپنی ہستی راہِ حق میں جہاں کو اس نے بخشی زندگانی مبارک تھا اُم المومنین کا ہوا مقبول رب العالمیں کا میری نصرت ہم قدم ہے؛ فضل میرا ہم نفس اے مبارک جا! سفر تیرا مبارک کر دیا ۲۰۲ منجدھار میں کشتی کدیں پار اُتارے کون؟ بگڑیں تو تیرے دن ہمیں بتلا سنوارے کون؟ ۲۰۶ ۲۰۸ ۲۰۹ ۲۱۰ ۲۱۱ کلام طاهر ۲۰۵ مر کر بھی مرا یہ بھیگی آنکھیں چین اُڑا دیں گی ، تو کیا یہ مجھے چراغ سجاؤ گے مرے مرقد کے سرہانے دو منتظر میں تیرے آنے کا رہا ہوں برسوں یہ لگن تھی، تجھے دیکھوں؛ تجھے چاہوں برسوں ۲۰ میرے بھائی آپ کی ہیں سخت چنچل سالیاں شعلہ جوالہ ہیں؛ آفت کی ہیں پر کالیاں میرا سورج بھی ہے تو ؛ چاند ستارے بھی تو اپنے جیون پہ مرا فخر تیرے دم سے ہے ملاں کیا روپوش ہوا اک پکی بھاگوں چھینکا ٹوٹنا اپنے مُریدوں کی آنکھوں میں جھونکی دھول اور پیسہ لوٹا میں اب سمجھا ہوں وہ کیفیت کیا ہوتی ہے جب دل کو ہر دور افتادہ اولیس پہ لختِ جگر سے بڑھ کر پیار آئے میرے محبوبوں پر صبح و مسا پڑتی ہے کیسی کیسی بکا میری روح پہ برسوں بیت گئے ان اندیشوں کا سایہ ہے محبوبی و رعنائی کرتی ہیں طواف اُس کا قدموں یہ ثار اُس کے جمشیدی و دارائی مرزائے غلام احمد؛ تھی جو بھی متاع جاں کر بیٹھا نثار اُس پر؛ ہو بیٹھا تمام اُس کا مجھ سے عناد و بغض و عداوت ہے اُن کا دیں اُن سے مجھے کلام نہیں؛ لیکن اس قدر میری ہر ایک راہ؛ تیری سمت سمت ہے رواں تیرے سوا؛ کسی طرف اُٹھتا نہیں قدم میں نہیں جانتا؛ وہ تھا کیا چیز تھی حقیقت؛ کہ واہمہ سا مجنوں کا دشت اُداس ہے؛ صحنِ چمن اُداس صحرا کی گود؛ لیلی کا آنگن اُداس ہے ۲۱۲ ۲۱۳ ۲۱۴ ۲۱۵ ۲۱۶ ۲۱۷ تھا