بیت بازی — Page 249
249 ۱۷۷ مجمع اغیار میں یہ راز کی باتیں نہ کھول میرے اپنے تک ہی رہنے دے مرے احوال کو IZA ۱۷۹ مجھے دیکھ رفعت کوہ میں؛ مجھے دیکھ پستی کاہ میں مجھے ڈھونڈ دل کی تڑپ میں تو مجھے دیکھ رُوئے نگار میں ۱۸۰ میرا نور شکل ہلال میں؛ مرا حسن بدر کمال میں ۱۸۱ ۱۸۲ ۱۸۳ مجھے دیکھ عجز فقیر میں، مجھے دیکھ شوکت شاہ میں؟ نہ دکھائی دُوں، تو یہ فکر کر، کہیں فرق ہو نہ نگاہ میں کبھی بلبلوں کی صدا میں سُن کبھی دیکھ گل کے نکھار میں؛ میری ایک شان خزاں میں ہے میری ایک شان بہار میں کبھی دیکھ طرز جمال میں، کبھی دیکھ شان جلال میں رگِ جان سے ہوں میں قریب تر ترا دل ہے کس کے خیال میں میں کروں گا عُمر بھر تکمیل تیرے کام کی میں تیری تبلیغ پھیلا دوں گا برروئے زمیں مقبول دعائیں ہوں؛ سب دُور بلائیں ہوں لے آئے خدا تم کو؛ اب خیر سے، عزت سے مخلوق یہ شفقت ہو؛ ہر اک سے مروت ہو معمور ہو دل ہردم؛ خالق کی محبت سے وہی ہوگا؟ جو دین کا خادم ہو سب شان ہے مسلم کی؛ اسلام کی شوکت سے ۱۸۵ محنت ہو اگر کچی؛ ضائع وہ نہیں ہوتی تم کام کئے جاؤ؛ اخلاص سے، ہمت سے میرے مولا ! کٹھن ہے راستہ اس زندگانی کا میرے ہر ہر قدم پر خود ره آسان پیدا کر میری خطائیں سب ترے غفراں نے ڈھانپ لیں اب بھی نگاہ لطف کے قابل نہیں ہوں میں؟ کوئی نہیں ہے ٹھکانہ تیرے سوا تیرے سوا کسی کے بھی قابل نہیں ہوں میں مٹتی ہوئی خودی نے پکارا؛ کہ اے خدا! آ جا! کہ تیری راہ میں حائل نہیں ہوں میں مایوس و غم زدہ کوئی اس کے سوا نہیں قبضے میں جس کے قبضہ سیف خدا نہیں مسکرا کر جس نے سب کے دل لبھائے ، چل بسا پیار کرتے تھے جسے اپنے پرائے؛ چل بسا ۱۸۴ ۱۸۶ 1^2 ۱۸۸ ۱۸۹ ۱۹۰ ۱۹۱ ۱۹۲ ۱۹۳ ۱۹۴ ۱۹۵ ۱۹۶ مخدوم میرا مبارک ہے یه انجام مبارک رہے قسمت! محبان محمد سارے تمہارے مبارک تمہیں بیاہ میرے پیارے بھائی کے پیارے مبارک رہیں کام : جوڑا ہو فضل خدا قدم ان کے بھٹکیں نہ راہ وفا سے مبارک ہو بیٹے کی شادی رچانا مبارک مبارک مبارک ملیں ان کی کھیتی ނ فصلیں چلیں ان سے یارب! بہت پاک نسلیں