بیت بازی — Page 12
12 ۱۶۶ ۱۶۸ ۱۶۹ 121 ۱۷۲ ۱۷۳ ۱۷۴ اے سونے والو جاگو! کہ وقت بہار ہے اب دیکھو آ کے در پہ ہمارے؛ وہ یار ہے ۱۶۷ اس رخ کو دیکھنا ہی تو ہے اصل مدعا جنت بھی ہے یہی کہ ملے یار آشنا اے حب جاہ والو! یہ رہنے کی جا نہیں اس میں تو پہلے لوگوں سے کوئی رہا نہیں اک دن وہی مقام؛ تمہارا مقام ہے اک دن یہ صبح زندگی کی؛ تم پہ شام ہے ۱۷۰ اک دن تمہارا لوگ جنازہ اٹھائیں گے پھر دفن کر کے گھر میں تأسف سے آئیں گے اے لوگو! عیش دنیا کو ہرگز وفا نہیں کو ہرگز وفا نہیں کیا تم کو خوف مرگ و خیالِ فنا نہیں اس کا تو فرض ہے؛ کہ وہ ڈھونڈے خدا کا نور تا ہووے شک و شبہ سبھی اس کے دل سے دُور اس بے نشاں کی چہرہ نمائی نشاں سے ہے سچ ہے؛ کہ سب ثبوتِ خدائی نشاں سے ہے اک سیل چل رہا ہے گناہوں کا زور سے سنتے نہیں ہیں کچھ بھی معاصی کے شور سے ۱۷۵ اس کا سبب یہی ہے؛ کہ غفلت ہی چھا گئی دنیائے دوں کی دل میں محبت سما گئی ان سے خدا کے کام سبھی معجزانہ ہیں یہ اس لئے کہ عاشق یار یگانہ ہیں ان کو خدا نے غیروں سے بخشا ہے امتیاز ان کیلئے نشاں کو دکھاتا ہے ہے آخر وہ اس کے رحم کو ایسا ہی پاتا ہے ایسے خدا کے خوف سے دل کیسے پاک سینہ میں اس کے عشق سے کیونکر تپاک ہو اس بے ثبات گھر کی محبت کو چھوڑ دو اس یار کیلئے رہ عشرت کو چھوڑ دو اے کرم خاک چھوڑ دے کبر و غرور کو زیبا ہے کبر؛ حضرتِ رَبِّ غیور کو اک بات کہہ کے اپنے عمل سارے کھوتے ہیں پھر شوخیوں کا بیج ہر اک وقت ہوتے ہیں کیلئے تو بس ہے خدا کا یہی نشاں یعنی وہ فضل اس کے؛ جو مجھ پر ہیں ہر زماں ۱۸۴ ایسے بدوں سے اس کے ہوں ایسے معاملات کیا یہ نہیں کرامت و عادت سے بڑھ کے بات ان کیوں میں کسی کو بھی ارماں نہیں رہا سب کی مراد تھی کہ میں دیکھوں کہ فنا ۱۷۶ 122 127 ۱۷۹ ۱۸۰ ۱۸۱ ۱۸۲ اس ذاتِ پاک سے جو کوئی دل لگاتا ۱۸۳ ان ۱۸۵ ۱۸۶ آخر کو ہو کارساز وہ خدا؛ جو کریم و قدیر ہے جو عالم القلوب و علیم و خبیر ہے کیلئے؛ کر کے عہد یاد پس رہ گئے وہ سارے ۱۸۷ اترا میری مدد رسید رو و نامراد