بیت بازی — Page 233
233 گو مجھے مُدَّت سے اصرار ہے منه دکھانے ޏ انھیں انکار ہے ۶۸ اے ۶۹ گناہوں سے بچالے ہم کو یارب! نہ ہونے پائے کوئی ہم سے تقصیر گلشن عالم کی رونق ہے فقط انسان سے گل بنانے ہوں اگر تُو نے؛ تو کر گل کی تلاش گر کر گڑھے میں ؛ عرش کے پائے کو جا چھوا کھوئے گئے جہاں سے؛ مگر اُن کو پا لیا گالیاں تکیہ کلام اُن کا عد و خوش خصال ہیں ایسے گالیاں کھائیں، پٹے ؛ خوب ہی رُسوا بھی ہوئے عشق کی ایسی حلاوت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں ایک بھی ہوں اگر ؛ کروڑ ہیں ہم ۷۲ ۷۳ ۷۴ ۷۵ ۷۶ 22 ZA 29 مقام بالا ہے جاؤ گنتیوں گو بارہا دیکھا انہیں؛ لیکن وہ لذت اور تھی دل سے کوئی پوچھے ذرا؛ لطف نگاہ اولیں گئی ابلیس کی تدبیر ضائع ؛ سب بہ فضل اللہ ملی ہے آدم و حوا کو جنت؛ حق کی رحمت سے گرد اس کے گھومتا ہوں روز و شب دیوانہ وار لوگ گر سمجھیں تو بس اک میں ہی ہشیاروں میں ہوں گو بحر منہ میں بے بس ہو کر پیہم غوطے کھاتے گو ہیں قالب دو؛ مگر ہے جان ایک کیوں نہ ہو ایسا کہ خادم زادہ ہوں گناہوں سے بھری دنیا میں پیدا کر دیا مجھ کو میرے خالق ! مرے مالک! یہ کیسا گھر دیا مجھ کو گل ہیں؛ پُر اُن میں پہلی سی اب یو نہیں رہی صوفی تو مل ہی جاتے ہیں؛ پر ھو نہیں رہی گہوارہ علوم؛ تمھارے بنیں قلوب نہ پاس تک بھی جہالت؛ خُدا کرے گالیاں دیں گے تمھیں؛ کافر بتائیں گے تمھیں جس طرح ہوگا؛ کریں گے وہ تمھیں رُسوا و خوار گیا ہوں سوکھ غم ملت محمد میں رہا نہیں ہے میرے جسم میں لہو باقی ۸۵ گو میرا دل مخزن تیر نگاہِ یار ہے پر یہ کیا کم ہے کہ اس کے تیر برداروں میں ہوں ۸۰ ΔΙ ۸۲ ᎪᎨ ۸۴ AL ۸۶ گنہ کے بعد ہو تو بہ سے باب رحمت وا خطا کے بعد ملے؛ انفعال میں برکت رگرہ نہیں رہی باقی کوئی میرے دل کی ہوا ہے عقده گشا؛ لا إِلهَ إِلَّا الله گھرا ہوں حلقہ احباب میں گو میں ، مگر تجھ بن میرے یارا ذل! تنہائی پھر بھی کاٹے کھاتی ہے ۸۹ گامزن ہوگے رو صدق و صفا پر گر تم کوئی مشکل نہ رہے گی؛ جو سر انجام نہ ہو ۸۸