بیت بازی — Page 228
228 ۵۳۵ ۵۳۶ ۵۳۸ ۵۳۹ ۵۴۰ کھلے جو آنکھ تو لوگ اُس کو خواب کہتے ہیں ہو عقل آندھی، تو اُس کو شباب کہتے ہیں کسی کے حُسن کی ہے اس میں آب کہتے ہیں بنی ہے طین اسی سے تراب کہتے ہیں ۵۳۷ کیا کرتے ہیں ہم سیر دوعالم کسی کو اپنے پہلو میں پڑھا کے کسی دن لے کے چھوڑیں گے وہ یہ مال بھلا رکھو گے کب تک دل چھپا کے کرو دجال کا تم سرنگوں اطراف عالم میں کہ ہے لبریز دل اُس کا؛ محمد کی عداوت سے کبھی مغرب کی باتوں میں نہ آنا اے مرے پیارو! نہیں کوئی ثقافت بڑھ کے اسلامی ثقافت سے کہا تھا طور پر موسیٰ کو اُس نے لَن تَرَانِی پر محمد پر ہوا جلوہ تــــــــــــی کا؛ عنایت سے کیا بتاؤں تجھے کیا باعث خاموشی ہے میرے سینہ میں یونہی درد ہوا کرتا کرتا رہے گا وعدے؛ اے گلزار کب تک پچھتا رہے گا دل میں؛ حسرت کا خار کب تک ۵۴۴ کھولے گا مجھ پہ کب تک یہ راز خلق و خالق دیکھوں گا تیری جانب آئینہ وار کب تک کہیں گے قتل کرنا اس کا جائز، بلکہ واجب ہے جو اس کو قتل کر دے گا؛ وہ محبوب خُدا ہوگا آج ملا نے کبھی جو تھا زندگی کا چشمہ؛ ۵۴۱ ۵۴۲ ۵۴۳ ۵۴۵ ۵۴۶ ۵۴۷ کلام یزداں ڈھیروں کپڑے چڑھا رکھے ہیں ؛ وہ ہے آج جوہر بنا ہوا ہے کیوں کانپتا ہے دشمن جاں تیرے پیار سے جو دوست تھے؛ وہ طالب آزار ہوگئے ۵۴۸ کر خانه فکر کو مقفل ہاتھوں میں کسی کے ساز ۵۴۹ کوتاه نگاہیاں کب تک ۵۵۰ ۵۵۱ گیسو کی طرح رہے وہ دراز ہو جا ہو جا غیر کا افسانہ سمجھ کر کہتے رہے ہم اُن سے دِلِ زار کی حالت سُنت کاش! تو پہلو میں میرے خود ہی آکر بیٹھ جائے عشق سے مخمور ہو کر ؛ وصل کا ساغر پلائے ۵۵۲ کھڑکی جمال یار کی ہیں عجز و انکسار سے بڑا حجاب سر پر غرور ہے کہتا ہے زاھد ؛ کہ میں فرمانروائی چھوڑ دوں گر خدا مجھ کو ملے؛ ساری خُدائی چھوڑ دوں کبھی وہ گھڑی بھی ہو گی ؛ کہ کہوں گا یا الہی ! مری عرض تو نے سُن لی؛ وہ مجھے اُگل رہی ہے کبھی پوچھو گے بھی آکر کہ بتا تو حال کیا ہے یوں ہی خُوں بہائے جائے؟ دِلِ داغدار کب تک ۵۵۳ ۵۵۴