بیت بازی

by Other Authors

Page 227 of 871

بیت بازی — Page 227

227 ۵۱۴ ۵۱۵ کر دے مجھے اسرار محبت سے شناسا دیوانہ بنا کر مجھے فرزانہ بنادے ۵اه گم نَورَ وَجهُ النَّبِيِّ صَحَابُهُ كَالفُلْكِ ضَاءَ سَطْحُهَا بِنُجُومِهَا فَحُ النَّقَلَيْنِ تَعلِيمَاتُهُ قَد خُصَّ دِينُ مُحَمَّدٍ بِعُمُومِهَا ۵۱۶ ۵۱۸ ۵۱۹ ۱۷ کب پیٹ کے دھندوں سے مسلم کو بھلا فرصت ہے دین کی کیا حالت؛ یہ اس کی بلا جانے کیوں قعر مذلت میں گرتے نہ چلے جاتے تم ٹوم کے سائے کو؛ جب ظل ہما سمجھے کچھ لوگ کھا رہے ہیں غم قوم صبح و شام کچھ صبح و شام سوچتے رہتے ہیں کھائیں کیا ۵۲۰ كُنتَ تَنحى عَنهُ كُلَّ تَنحى يَا قَلبِيَ المَجرُوحَ كَيفَ رَمَاكَ ۵۲۱ کناره آ ہی جائے گا کبھی تو ۵۲۲ ۵۲۳ ۵۲۴ ۵۲۶ کنوئیں جھانکا کیا ہوں عمر بھر میں کیا جنگوں وہ چلائے جا رہے ہیں ہم سفینے ڈبویا مجھ کو دل کی دوستی نے سے مومن کو ہے ڈر؛ تم اس کے سر کرنے کیلئے؟ موت سے کھیلا کرتا ہے میدان وغا کو رو رہنے ہے کبھی جو ناخنِ تدبیر میں ہلا تا ہوں مجھے شکنجہ میں قسمت مری جکڑتی ۵۲۵ کشور دل کو چھوڑ کر جائیں گے وہ بھلا کہاں آئیں گے وہ یہاں ضرور ؛ تو انہیں بس بلائے جا کہتے ہیں میرے ساتھ رقیبوں کو بھی تو چاہ لو اور مجھ غریب مجرمانہ کر دیا ۵۲۷ کاغذی جامہ کو پھینک اور آہنی زرہیں پہن وقت اب جاتا رہا ہے شوخی تحریر کا گل کے کاموں کو بھی ممکن ہو اگر تو آج کر اے مری جاں! وقت یہ ہرگز نہیں تاخیر کا کامیابی کی تمنا ہے؟ تو کر کوہ کنی یہ پری شیشے میں اُتری ہے کہیں باتوں کبھی اگر یہ ہے کبھی آہ و فغاں ہے؛ اے دل! تنگ آیا ہوں بہت میں تری ان باتوں سے ۵۲۸ ۵۲۹ ۵۳۰ ۵۳۱ ۵۳۲ ۵۳۳ ۵۳۴ : یہ ہے کیا حرج ہے؟ جو ہم کو پہنچ جائے کوئی شتر پہنچے کسی کو ہم سے اگر شتر ؛ بُرا گم نہیں کچھ کیمیا سے سوز اُلفت کا اثر اشک خُوں جو بھی بہا؛ لعلِ بدخشاں ہو گیا کہتے ہیں لوگ کھاتے ہیں ہم صبح و شام غم ہم اُن سے کیا کہیں؛ کہ ہمیں غم نے کھا لیا کیا دام عشق سے کبھی نکلا ہے صید بھی کیا بات تھی؛ کہ آپ نے عہدِ وفا لیا