بیت بازی

by Other Authors

Page 10 of 871

بیت بازی — Page 10

10 ۱۲۲ ۱۲۳ ۱۲۴ احوال کیا کہوں میں ؛ اس غم سے اپنے دل کا گویا کہ ان غموں کا مہماں سرا یہی ہے اک وید ہے جو سچا؟ باقی کتابیں ساری جھوٹی ہیں اور جعلی؛ اک راہنما یہی ہے ایشر کے گن عجب ہیں؛ ویدوں میں اے عزیزو! اس میں نہیں مروت؛ ہم نے سنا یہی ہے ہے ۱۳۵ ایشر بنا ہے منہ سے؛ خالق نہیں کسی کا روحیں ہیں سب آنادی؛ پھر کیوں خدا یہی ان کا ہی منہ ہے تکتا؛ ہر کام میں جو چاہے گویا وہ بادشہ ہیں؛ ان کا گدا یہی ہے ۱۲۶ ۱۲۸ ۱۲۹ ۱۳۰ ۱۳۱ ۱۳۲ ۱۳۳ ۱۳۴ ۱۲۷ القصہ آریوں کے ویدوں کا یہ خدا ہے ان کا ہے جس پہ تکیہ؟ وہ بے نوا یہی ہے اے آریو! کہو اب؛ ایشر کے ہیں یہی گن جس پر ہو ناز کرتے؛ بولو وہ کیا یہی ہے ان سے دوچار ہونا؛ عزت ہے اپنی کھونا ان سے سے ملاپ کرنا؛ راه ریا یہی ہے اس نے خدا ملایا؟ وہ یار اس سے پایا راتیں تھیں جتنی گذریں ؛ اب دن چڑھا یہی ہے اس نے نشاں دکھائے؛ طالب سبھی بلائے سوتے ہوئے جگائے؛ بس حق نما یہی ہے اسلام کے محاسن؛ کیونکر بیاں کروں میں سب خشک باغ دیکھے؛ پھولا پھلا یہی ہے آنکھ اس کی دور میں ہے؛ دل یار سے قریب ہے ہاتھوں میں شمع دیں ہے؛ عین الضیاء یہی ہے اے میرے ربّ رحماں! تیرے ہی ہیں یہ احساں مشکل ہو تجھ سے آساں؛ ہردم رجا یہی ہے اے میرے یار جانی! خود کر تو مہربانی ور نہ بلائے دنیا؛ اک اژدھا یہی ہے اس عشق میں مصائب؛ سو سو ہیں ہر قدم میں پر کیا کروں؛ کہ اس نے مجھ کو دیا یہی ہے اس رہ میں اپنے قصے ؛ تم کو میں کیا سناؤں دکھ درد کے ہیں جھگڑے؛ سب ماجرا یہی ہے اے میرے یار جانی! کر خود ہی مہربانی مت کہہ کہ لــن تــرانــی ؛ تجھ سے رجا یہی ہے اے میرے دل کے درماں ہجراں ہے تیرا سوزاں کہتے ہیں جس کو دوزخ؛ وہ جاں گزا یہی ہے اک دیں کی آفتوں کا غم کھا گیا ہے مجھ کو سینے پر دشمنوں کے پتھر پڑا یہی ہے ۱۳ ایسا زمانہ آیا جس نے غضب ہے ڈھایا جو پیستی ہے دیں کو؛ وہ آسیا یہی ہے آنکھیں ہر ایک دیں کی بے نور ہم نے پائیں سرمہ سے معرفت کے اک سرمہ سا یہی ہے انکار کر کے اس سے؛ پچھتاؤ گے بہت تم بنتا ہے جس سے سونا؛ وہ کیمیا یہی ہے ۱۳۵ ۱۳۶ ۱۳۷ ۱۳۸ ۱۳۹ الده ۱۴۱ ۱۴۲ ۱۴۳