بیت بازی — Page 9
9 1+1 اے اب غیروں سے لڑائی کے معنے ہی کیا ہوئے تم خود ہی غیر بن کے محل سزا ہوئے ایسا گماں کہ مہدئی خونی بھی آئیگا اور کافروں کے قتل سے دیں کو بڑھائیگا غافلو ! یہ باتیں سراسر دروغ ہیں بہتاں ہیں، بے ثبوت ہیں؛ اور بے فروغ ہیں اب سال سترہ بھی صدی سے گذر گئے تم میں سے ہائے! سوچنے والے کدھر گئے اب عذر کیا ہے؟ کچھ بھی بتاؤ گے یا نہیں مخفی جو دل میں ہے؛ وہ سناؤ گے یا نہیں ۱۰۵ آخر خدا کے پاس بھی جاؤ گے یا نہیں اس وقت اس کو منہ بھی دکھاؤ گے یا نہیں ۱۰۳ ۱۰۴ ۱۰۶ آنکھ پر ہے؛ دل میں میرے درد ہے کیوں دلوں پر اس قدر یہ گرد ہے کچھ تو دیکھو! گر تمہیں کچھ ہوش ہے ۱۰۷ آسماں پر ۱۰۸ ۱۰۹ 11۔۱۱۲ ۱۱۴ ۱۱۵ 117 ۱۱۷ ۱۱۸ غافلو ! اک جوش ہے اس صدی کا بیسواں اب سال ہے شرک و بدعت سے جہاں پامال ہے ایک دنیا ہے مرچکی اب تک پھر بھی تو بہ نہیں؛ ۱۱۹ ۱۲۰ ۱۲۱ نہ حالت ہے اے قوم آریہ! تیرے دل کو یہ کیا ہوا تو جاگتی ہے؛ یا تیری باتیں ہیں خواب میں اس کی طرف ہے ہاتھ ہر اک تارزُلف کا ہجراں سے اس کے رہتی ہے وہ پیچ و تاب سے اس لئے اب غیرت اس کی کچھ تمہیں دکھلائے گی ہر طرف یہ آفتِ جاں ہاتھ پھیلانے کو ہے آریوں پر ہے صد ہزار افسوس! دل میں آتا ہے بار بار افسوس انکاری پر کہاں تک چلے گی طراری ان نشانوں سے ان ہیں یہ کے باطن میں اک اندھیرا ہے کین و نخوت نے آکے گھیرا وہ ہے ہ دیکھ کر ہیں منکر، ظلم و جفا یہی ہے افسوس آریوں پر؛ جو ہوگئے ہیں شیر اک ہیں جو پاک بندے اک ہیں دلوں کے گندے جیتیں گے صادق آخر؛ حق کا مزا یہی ہے ان آریوں کا پیشہ؛ ہردم ہے بد زبانی ویدوں میں آریوں نے شاید پڑھا یہی ہے افسوس سبّ و تو ہیں؛ سب کا ہوا ہے پیشہ کس کو کہوں؟ کہ ان میں ہرزہ درا یہی ہے آخر یہ آدمی تھے؛ پھر کیوں ہوئے درندے کیا جون ان کی بگڑی؛ یا خود قضا یہی ہے اپنے کئے کا ثمرہ لیکھو نے کیسا پایا آخر خدا کے گھر میں بد کی سزا یہی ہے