بیت بازی

by Other Authors

Page 222 of 871

بیت بازی — Page 222

222 ۴۰۹ ۴۱۰ ۴۱۱ ۴۱۲ ۴۱۳ ۴۱۴ ۴۱۵ ۴۱۶ ۴۱۸ ہے کوئی عمل بھی کر نہ سکے اُس کی راہ میں رہتے ہیں اس خیال سے ہی شرمسار ہم کہتے ہیں آدنیا کو دیکھ ہیں اس میں کیسے نظارے میں کہتا ہوں بس چپ بھی رہو یہ میری دیکھی بھالی ہے کافر کے ہاتھ میں بندوقیں؛ کافر کے ہاتھ خزانوں پر ؟ مومن کے ہاتھ سلاسل میں مومن کی پیالی خالی کبھی اس چشمہ صافی کے ہمسائے میں بستا ہے کبھی اک قطره آب مقطر کو ترستا ہے کبھی خروار غلے کے اُٹھا کر پھینک دیتا ہے کبھی چیونٹی کے ہاتھوں سے بھی دانہ چھین لیتا ہے کبھی آفاتِ ارضی و سماوی سے ہے ٹکراتا کبھی ٹو بھی جو لگ جائے ؛ تو تیرا منہ ہے مُرجھاتا کبھی کہتا ہے تو اللہ کو کس نے بنایا ہے؟ کبھی کہتا ہے راز خلق دنیا کس نے پایا ہے؟ کبھی اللہ کی قدرت کا بھی انکار ہے تجھ کو کبھی انسان کی رفعت پہ بھی اصرار ہے تجھ کو ۴۷ کمال ذات انسانی پہ سو سو ناز کرتا ہے کبھی شانِ خُداوندی پر سوسو حرف دھرتا ہے کبھی نعروں پہ تو قرباں کبھی گفتار پر قرباں مرے بھولے صنم میں اس تیرے کردار پر قر باں کیوں چل دیا ہے شمع کو پروانہ چھوڑ کر جاتا ہے کوئی یوں کبھی کاشانہ چھوڑ کر کھولا ہے کسی تدبیر سے باب لقائے دیر با آئے ہیں کس انداز سے اوڑھے رداء المرسلیں کیا فکر ہے تجھ کو اگر شیطاں ہے بازی لے گیا دنیا خُدا کی ملک ہے؛ تیری نہیں، میری نہیں کوئی دشمن اسے کرسکتا نہیں مجھ سے جدا ہے تصور تیرا دل میں کوئی تصویر نہیں ۴۲۳ کھاتے ہیں زردہ پلاؤ؛ قورما و شیر مال مخملی دوشالے اوڑھے پھرتے ہیں اس کے رقیب گفر نے بت توڑ ڈالے؛ دیر کو ویراں کیا پرم مسلمانوں کے گھر میں ہے جہالت کا ہی راج کرو جان قربان راہِ خدا میں بڑھاؤ قدم تم طریق وفا میں کثرت آنام سے ہے کم ہوئی میری گھر اب یہی اس کا مداوا ہے کہ کریں درگذر کلیم اللہ کے پیرو بنے ہیں؛ پیرو شیطاں دکھایا سامری نے کیا تماشہ اپنی لُعبت سے کھول کر قرآں؛ پڑھو اس کے کلام پاک کو دل کے آئینہ پر تم اک کھینچ لو تصویر یار کبر کی عادت بھلاؤ؛ انکساری سیکھ لو جہل کی عادت کو چھوڑو، علم کر لو اختیار ۴۲۰ کھولا ۴۲۱ ۴۲۲ ۴۲۴ ۴۲۵ ۴۲۶ ۴۲۷ ۴۲۸ ۴۲۹