بیت بازی — Page 218
218 ۳۲۵ ۳۲۶ ۳۲۷ کہاں ہے لالہ و گل میں وہ ملتی میں وہ ملتی جو خوبی ہے میرے اس دلستاں میں کلام پاک بھی موجود ہے؛ اسے پڑھ لے ہمارا تجھ کو جو؛ اے قوم! اعتبار نہیں کبھی تو دل پہ بھی جا کر اثر کرے گی بات سُنائے جائیں گے ہم؛ تم کہو ہزار 'نہیں ' ۳۲۸ کروڑ جاں ہو؟ تو کردُوں فدا محمد پر کہ اس کے لطف و عنایات کا شمار نہیں ۳۲۹ کرے قرآن پیر چشمک حسد کہاں دشمن میں یہ تاب و تواں ہے کسی کو بھی نہیں مذہب کی پروا اک دنیا کا ہی شیدا ہوا ہے E ۳۳۰ ۳۳۱ ۳۳۳ ۳۳۵ ۳۳۶ ۳۳۷ ۳۳۸ £ f ۳۳۹ کساں کو اک نظر دیکھو خُدارا! ہر جو ہوتا ہے؛ اسی کو کانتا ہے ۳۳۲ نفر مٹ جائے گا؛ زور اسلام کا ہو جائے گا ایک دن حاصل ہمارا مدعا ہو جائے گا کیوں نہ گرداب ہلاکت سے نکل آئے گی قوم کشتی ہیں کا خُدا جب ناخُدا ہو جائے گا ۳۳۴ کر لو جو کچھ موت کے آنے سے پہلے ہو سکے تیر چھٹ کر موت کا؛ پھر کیا خطا ہو جائے گا؟ کرم خاکی ہوں؛ نہیں رکھتا کوئی پروا میری دشمنوں پر میں گراں ہوں؛ دوستوں پر بار ہوں کچھ نہیں حال کلیسا و صنم خانہ کا علم نشہ جام مئے وحدت میں؛ میں سرشار ہوں کیا کروں جا کر حرم میں؛ مجھ کو ہے تیری تلاش دار کا طالب نہیں ہوں؛ طالب دیدار ہوں کام دیتی ہے عصا کا آیت لاتقنطوا ورنہ عصیاں نے تو میری توڑ ڈالی ہے کمر کوئی گیسو میرے دل سے پریشاں ہو نہیں سکتا کوئی آئینہ مجھ سے بڑھ کے حیراں ہو نہیں سکتا کوئی یادِ خُدا سے بڑھ کے مہماں ہو نہیں سکتا وہ ہو جس خانہ دل میں؛ وہ ویراں ہو نہیں سکتا کوئی مجھ سا گناہوں پر پشیماں ہو نہیں سکتا کوئی کیوں غفلتوں پر اپنی گریاں ہو نہیں سکتا کیا تھا پہلے دل کا خون؛ دیت تو میں ؛ اب جاں لے کے چھوڑیں گے اس ڈر سے خواہاں ہو نہیں سکتا کیا جانیے کہ دل کو میرے آج کیا ہوا کس بات کا ہے اس کو یہ دھڑکا لگا ہوا کیوں اس قدر یہ رنج و مصیبت میں چور ہے کیوں اس سے امن و عیش ہے بالکل چھٹا ہوا کیوں اس کی آب و تاب وہ مٹی میں مل گئی ؟ جیسے ہو خاک میں کوئی موتی ملا ہوا ۳۴۰ ۳۴۱ ۳۴۲ ۳۴۳ ۳۴۴ ۳۴۵ کا بھی