بیت بازی

by Other Authors

Page 217 of 871

بیت بازی — Page 217

217 ۳۰۴ ۳۰۶ ۳۰۷ ۳۰۸ کس لیے خوش ہے؛ یہ تجھ کو بات ہاتھ آئی ہے کیا یہ نہ خوش ہونے کے دن ہیں؛ بلکہ تھرانے کے دن ۳۰۵ کچھ بھی گر عقل و خرد سے کام تو لیتا، تو یہ دیں میں جو ہیں بل پڑے ہیں اُن کو سلجھانے کے دن کھولتا ہوں میں زباں وصف میں اُس کے یارو! جس کے اوصاف حمیدہ نہیں ہو سکتے رقم کون سا مولوی ہے؛ جو نہیں دشمن تیرا کون ہے؟ جو کہ یہودی علما سے ہے کون سا چھوڑا ہے حیلہ تیری رُسوائی کا ہر جگہ کرتے ہیں یہ حق میں ترے سب وشتم کر نہیں سکتے یہ کچھ بھی تیرا؛ اے شاہ جہاں! ہفت خواں بھی جو یہ بن جائیں ؛ تو تو ہے رستم کوئی اتنا تو بتائے؛ یہ اکڑتے کیوں ہیں بات کیا ہے کہ یہ پھرتے ہیں نہایت محرم ۳۱ گفر نے کر دیا اسلام کو پامال غضب شرک نے گھیر لی توحید کی جا؛ وائے ستم مدت ہوئی، وہ تو مر چکا ہے ۳۰۹ ۳۱۰ ۳۱۲ ۳۱۳ کس راه ابن مریم آئے کیوں بھولے ہو دوستو ! ادھر آؤ! اک مرد خدا پکارتا ہے کرے گا قدرت سے اپنی پیدا وہ شخص؛ مسیح دوراں، مثیل عيسى جس کا کیا ہے جو میری اُمت کا رہنما ہے وعده کہ اے مثیل مسیح و عیسی ! ہوں سخت محتاج میں دُعا کا خُدا تری ہے قبول کرتا؟ کہ تو اس اُمت کا ناخُدا ہے کہتے ہیں وہ امام تمھارا؛ تمھیں سے ہے جو ہے بڑی ہی شوکت و جبروت و شان کا کچھ یاس و ناامیدی کو دل میں جگہ نہ دو اب جلد ہوچکے گا یہ موسم خزان کا کافر بھی کہہ اُٹھیں گے؟ کہ سچا ہے وہ بزرگ دعوی کیا ہے جس نے؛ مسیح الزمان کا کیا تم کو نہیں خوف رہا روز جزا کا یوں سامنا کرتے ہو جو محبوب خُدا کا کل تلک تو یہ نہ چھوڑے گا کہیں کا ہم کو آج ہی سے جو لگا ہے غم فردا ہم کو کچھ نہیں فکر؛ لگائی ہے خُدا سے جب کو کو سمجھتا بُرا اپنا پرایا ہم کو ہے کہیں موسی کی طرح حشر میں بیہوش نہ ہوں لگ رہا ہے اسی عالم میں یہ دھڑکا ہم کو کیوں ہو رہا ہے کرم و خوش آج گل جہاں کیوں ہر دیار و شہر ہوا رشک بوستاں يارب ! کہ تُو نے لے لیا ہم کو اماں میں کریں کیونکر نہ تیرا شکر ۳۱۴ ۳۱۵ ۳۱۶ ۳۱۷ ۳۱۸ ۳۱۹ ۳۲۰ ۳۲۱ ۳۲۲ ۳۲۳ ۳۲۴