بیت بازی

by Other Authors

Page 216 of 871

بیت بازی — Page 216

216 کوئی مذہب ہے سسکتی ہوئی روحوں کا نہ رنگ ہر ستم دیدہ کو انسان ہی پایا ہم نے کوئی قشقہ ہے دکھوں کا ؛ نہ عمامہ، نہ صلیب کوئی ہندو ہے، نہ مسلم ہے، نہ عیسائی ہے کوڑے چار دناں دے میلے؛ اگو گل ای پیچ اے لا الهَ إِلَّا اللَّه لَ اللَّهُم صَلَّ اگوگل کبھی طے کرے یونہی سوچ سوچ میں؛ میرے پیچھے آکے دبے دبے میری آنکھیں موند، ہنسا کرے وہ فراق کے فاصلے رکس نے کوٹا ہوا ہوتا میرے چندا کا قرار کروٹیں کس کی جدائی میں بدلتا ہوتا کبھی ہم اُس کو لطیفوں سے ہنساتے تھے بہت کبھی گاتے تھے، تو وہ پیار سے سمجھاتا تھا ۲۸۵ ۲۸۶ ۲۸۷ ۲۸۸ ۲۸۹ ۲۹۰ ۲۹۱ کتنا خوش نصیب ہوں کہ میں؟ اک غلام خیر الانبیاء کا ہو رہا ہوں ہم کلام غلام ور غلام ور غلام تجھے ۲۹۲ کانٹوں میں ہائے! کیوں میری ہستی اُلجھ گئی وہ مجھ پہ کھیل کھیلا اُٹھا ہے؛ لالہ زار دیکھ ۲۹۳ ۲۹۴ ۲۹۵ ۲۹۶ ۲۹۷ ۲۹۸ ۲۹۹ ۳۰۰ کبھی اپنا بھی اک شناسا تھا کبھی میں بھی کسی کا تھا مطلوب کوئی میرا بھی آسرا سا تھا تھا یا مجھے بس یونہی لگا ん کیسی کیسی شرم تھی؟ کیا کیا حیا تھی پردہ دار پیار جب معصوم تھا؛ اور رسوائی نہ تھا وجہ کیا علم تھا کہ راہ میں دیکھے گا قیص کو دیکھا؟ تو ڈر سے سینہ میں دل ہی اُچھل پڑا کلام محمود کلام پاک کی اُلفت کا ان کے دل میں گھر کر دے نبی سے ہو محبت؛ اور تعشق ان کو ہو تجھ سے کبھی آتا نہ کوئی دوست کسی دوست کے کام دل سے تھا محو ہوا؛ مہر و محبت کا نام کوئی عالم کبھی اس ملک میں آجاتا تھا دیکھ کر اس کا یہ حال؛ اشک بہا جاتا تھا کالجوں کے بھی ہیں شہروں میں کھلے دروازے ہر جگہ ہوتے ہیں اب علم و ہنر کے چرچے کام وہ کر کے دکھایا؟ کہ جو ناممکن تھا آئے جب ہند میں وہ کیا ہی مبارک دن تھا کچھ صلاحیت جو رکھتے ہو؛ تو حق کو مان لو یاد رکھو دوستو! یہ پھر نہیں آنے کے دن ۳۰۳ کبر و نخوت سے خُدارا! باز آؤ تم ؛ کہ اب جلد آنے والے ہیں؛ وہ آگ بھڑ کانے کے دن ۳۰۱ ٣٠٢