بیت بازی

by Other Authors

Page 214 of 871

بیت بازی — Page 214

214 ۲۴۶ ۲۴۷ ۲۴۸ ۲۴۹ ۲۵۰ ۲۵۱ ۲۵۲ ۲۵۴ ۲۵۶ ۲۵۷ کیا حال تمہارا ہوگا؛ جب شداد ملائک آئیں گے سب ٹھاٹھ دھرے رہ جائیں گے جب لاد چلے گا بنجارا کیا ظلم و ستم ره جائیں گے؛ J۔3: میں آنے والے بتا! اے دلیس پہچان وطن کس حال میں ہیں یارانِ وطن بھی عوام وہاں ؛ سیلاب تھپیڑے ماریں؛ بگڑیں بھاگ، اذانیں دیتے ہیں تو سب جاگ اذانیں دیتے ہیں کیا اب بھی سفید مناروں سے؛ دھرتی کے نصیب اجڑتے ہیں؛ ناگ اذانیں دیتے ہیں نفرت کی منادی ہوتی ہے جب کبھی مخلوق ہو گئی کتنے 咯 ہمہ اوست آتش و آب عین ذات بنے گئے سردار کتنے نعرے تعلیات بنے کتنے عزتی بنے؟ مٹے کے بار؟ کتنے لات اُجڑے؛ کتنے لات بنے بار ۲۵۳ کتنے محمود آئے؟ کتنی سومنات اجڑے سومنات بنے گل آنے کا جو وعدہ تھا؛ آکر تو دیکھتے تڑپا تھا کوئی کس طرح گل آپ کیلئے ۲۵۵ کنار آپ کو تشنہ کیوں کی آزمائش کو کہیں گرب و بلا کا اک کڑا ویرانہ آتا ہے کبھی ذکر قتیل حیدرآباد ان پر ملتا ہے کہیں نوابشاہ کا دُکھ بھرا افسانہ آتا ہے کہیں ہے کوئٹہ کی داستان ظلم و سفا کی کہیں اوکاڑہ اور لاہور اور بچیانہ آتا ہے ہے ماجرائے گجرانوالہ کی لہو پاشی گجرانوالہ کی لہو پاشی کہیں اک سانحہ ٹوپی کا سفاکانہ آتا ہے کبھی یادوں کی اک بارات یوں دل میں اُترتی ہے کہ گویا رند تشنہ لب کے گھر کے خانہ آتا ہے کافور ہوا باطل؛ سب ظلم ہوئے زائل اُس شمس نے دکھلائی جب شانِ خود آرائی کی سیراب بلندی پستی؛ زندہ ہو گئی بستی بستی بادہ گشوں پر چھا گئی مستی ؛ اک اک ظرف بھرابر کھانے کوچے کوچے میں بپاشور متى نصر الله لاجرم نصرت باری ہے قریں؛ آج کی رات کافر و ملحد و دجال بلا سے ہوں مگر تیرے عشاق کوئی ہیں، تو ہمیں؛ آج کی رات ۲۵۸ ۲۵۹ ۲۶۱ ۲۶۲ ۲۶۳ کہیں ' ۲۶۴ کاش اُتر آئیں یہ اُڑتے ہوئے سیمیں لمحات کاش یوں ہو کہ ٹھہر جائے یہیں؛ آج کی رات