بیت بازی — Page 195
195 11 ۱۲ ۱۳ ۱۴ فانی تمام ناز ہیں؛ باقی ہے اس کا ناز جس کو بقا پہ ناز ہے؛ وحدت پہ ناز ہے فرشتے ناز کریں جس کی پہرہ داری پر ہم اس سے دور ہیں؛ تم اس مکاں میں رہتے ہو فضا ہے جس کی معطر نفوسِ عیسی سے اسی مقام فلک آستاں میں رہتے ہو فضلوں کی لگیں جھڑیاں خوشیوں سے کئے گھڑیاں انعام کی بارش ہو؛ خالق کی عنایت سے ۱۵ فرش سے عرش پہ پہنچی ہیں صدائیں میری میرے اللہ نے سُن لی ہیں دعائیں میری فعل دونوں ہی نہیں شیوہ مرد مومن رونا تقدیر کو تدبیر نازاں ہونا فریاد سب کیا کریں آقا کے سامنے نڑیا کریں نماز میں مولا کے سامنے فضل خدا کا سایہ؛ ہم پر رہے ہمیشہ ہر دن چڑھے مبارک؛ ہر شب بخیر گذرے ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ کلام طاهر فطرت میں نہیں تیری غلامی کے سوا کچھ نوکر ہیں ازل سے تیرے چاکر ہیں سدا کے فاتحہ کیلئے ہم جائیں تو یہ نہ ہو کہیں ہم سے شکوہ کریں؛ وہ قبریں، کہ اب کیوں آئے کلام محمود فتح و نصرت کی انہیں روز نئی پہنچے خوشی دُور ہو؛ دین میں ہے، ان کی جو یہ گمراہی فیض پہنچانے کا ہے تو نے اُٹھایا بیڑا لوگ بھولے ہیں ترے وقت میں نامِ حاتم سلطنت کو ملی ہے یہ سا جو نفع دینے والی ہے؟ اور ہے بھی بے ضرر مسیحا! میری جاں ہے کہ تو ہم بے کسوں کا پاسباں ہے فضل خُدا سے ، ہم کو ملی فدا تجھ ۲۵ فلک ނ تا منارہ آئیں عیسے مگر آگے تلاش کردیاں ہے ۲۴ فرقت میں اپنا حال ہوا ہے یہاں جو غیر احباب اُن کو جا کے سُناتے؛ تو خُوب تھا فراق جاناں نے دل کو دوزخ بنا دیا ہے جلا جلا کر آگ بجھتی نہیں ہے مجھ سے؛ میں تھک گیا ہوں بجھا بجھا کر فراق جاناں میں ساتھ چھوڑا؛ تھی ایک چھوٹے بڑے نے میرا ول أميد؛ سو اُسے بھی وہ لے گیا ہے لبھانبھا کر ۲۶ ۲۷ ۲۸