بیت بازی

by Other Authors

Page 196 of 871

بیت بازی — Page 196

196 فکر دیں میں گھل گیا ہے میرا جسم دل مرا اک کوه آتش بار ہے فَاضَت ضَفُوقَ الكَوثَرِ شَوقاً لَّهُ وَعَدَتْ إِلَيهِ الجَنَّةُ بِكُرُومِهَا فرزانوں نے دنیا کے شہروں کو اُجاڑا ہے آباد کریں گے اب دیوانے؛ یہ ویرانے بنا : فلسفی زندگی سے کیا پایا؟ حیف گر ہے ترا خُدا ۲۹ ۳۰ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ام ۴۲ ۴۳ ۴۴ ۴۵ ۴۶ R ۴۸ ۴۹ فدا ہوتے ہیں پروانے؛ اگر شمع منور پر تو تیرے رُوئے روشن پر نہ میں کیوں جان دُوں ساقی نہ فراق میں جو مری آنکھ سے بہے تھے اشک انہی سے حسن نے پائی ہے آب کہتے ہیں فریب خورده اُلفت فریب خوردہ ہے مگر تو سامنے اس کو بھی بلا تو سہی فہم سے بالا بھی ہو فہیم مجسم بھی ہو تم عام سے عام بھی ہو؛ سر غرائب بھی ہو تم فقر نے بخشا ہے لاکھوں کو شہنشاہی کا تاج کیا ہوا ہے سحر یہ نانِ جویں سے پوچھیئے جا کر لیا دم عرش مصطفے کی سیر روحانی تو دیکھ اک زباں پر ہیں بھولے ہوئے اب بخاری نسائی فرش سے فرائڈ کا ہے ذکر ہر پر فکر انسانی فلک پر اڑ رہا ہے آجکل فلسفہ دکھلا رہا ہے خُوب اپنا زوروبل فرشتوں سے مل کر اڑو تم ہوا میں مہک جائے خوشبوئے ایماں فضا میں فرشتے بھر رہے ہیں اس کو اپنے دامن میں نکل رہی ہے دُعا جو میری زباں سے آج فقہی سے اس سوال کا کل ہو نہیں سکا ہیں تجھ میں ہی قلوب؛ کہ تو ہے قلوب میں فاقوں مر جائے؛ پہ جائے نہ دیانت تیری و نزدیک ہو مشہور امانت تیری فکر خود سے فکر دُنیا کیلئے آزاد ہیں شاد کرتے ہیں زمانہ بھر کو؛ خُود ناشاد ہیں دور فخر ہے مجھ کو کہ ہوں میں خدمت سرکار میں ناز ہے مجھ کو کہ اس کے ناز کر داروں میں ہوں فتح تیرے لیے مقدر ہے تیری تائید میں ہے رَبّ عِباد فضل سے تیرے جماعت تو ہوئی ہے تیار جوب شیطاں کہیں رخنہ نہ ڈالے پیارے! خُدا اُسے بچائے پیدا کرے تحریمی کے ساماں۔آمین فکر میں جس کی گھل رہے ہیں ہم اُن کو ہم سے نقار رہتا ہے فکروں