بیت بازی — Page 192
192 ۳۱ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۹ ۴۰ ام ۴۳ م م ۴۵ ۴۶ ۴۷ کلام محمودی سینہ سپر غیرت دینی ہو اس میں اس قدر اسطے دیں کے ہو غرق ہیں بحر معاصی میں ہم ؛ اے پیارے مسیح! پار ہو جائیں؛ اگر تو کرے کچھ ہم پر گرم غصہ میں بھرا ہوا خُدا ہے با گو! ابھی فُرصتِ دُعا ہے غَضَب ہے؛ کہ یوں شرک دنیا میں پھیلے میرا سینہ جلتا ہے؛ دل پھنک رہا ہے غم اسلام میں؛ میں جاں بلب ہوں کر ہے ہے کلیجہ میرا منہ کو آ رہا ہے هم جماعت احمد نہیں کہا جاتا یہ آگ وہ ہے؛ کہ جس نے جلا دیا مجھ کو غنچہ دیں کیلئے باد صبا ہو جاؤ کفر و بدعت کیلئے دست قضا ہو جاؤ کم و رنج و مصیبت سے بچا ہمیشہ رکھ ہمیں اپنی اماں میں غافلو ! کیوں ہو رہے ہو عاشق چنگ و رباب آسماں پر کھل رہے ہیں آج سب عرفاں کے باب اپنے دوستوں کا بھی کھانا پڑے ہمیں اغیار کا بھی بوجھ اٹھانا پڑے ہمیں غَمِ دل لوگ کہتے ہیں؛ نہایت تلخ ہوتا مگر میں کیا کروں اس کو ؛ غذا یہ مجھ کو بھاتی غیر ممکن کو؛ یہ ممکن میں بدل دیتی ہے فلسفیو! زوردُعا دیکھو تو غضب ہے شاہ بُلائے؛ غلام منہ موڑے ستم ہے چُپ رہے یہ وہ کہے مجیب ہوں میں غیر کو سونپ نہ دیجو کہ کوئی خادم در کر گیا تھا ہمیں تیرے ہی حوالے پیارے! غیر ممکن ہے کہ تو مائدہ سلطاں پر کھا سکے خوانِ ہدایت سگِ دُنیا ہوکر غیر کا افسون اس یہ چل نہیں سکتا کبھی لے اُڑی ہو، جس کا دل؛ زُلف دوتائے قادیاں غیب سے فضل کے سامان ہوئے جاتے ہیں مرحلے سارے ہی آسان ہوئے جاتے ہیں میرے ہمراز! پر وہ پر شکستہ کیا کریں جن کے ہوا میں اُڑ گئے نالے، گئیں بے کار فریادیں غرض جس طرح بن آیا مطالب اُن سے منوائے اے میرے ۳۸ غضب کا ہے تیرا یہ حسن مخفی جنھیں دیکھا؟ تیرے خواہان نکلے غفلت خواب حیات عارضی کو دور کر ہے تجھے گر خواہش تعبیر خواب زندگی ۴۹