بیت بازی — Page 193
193 ۵۰ ۵۱ ۵۲ ۵۳ ۵۴ غیر کیوں آگاہ ہو؛ راز محبت سے میرے دشمنوں کو کیا پتا ہو؛ میرے تیرے پیار کا غفلت تیری اے مسلم ! کب تک چلی جائے گی یا فرض کو تو سمجھے؛ یا تجھ سے خُدا سمجھے غیر کی نصرت و تائید سے ہو مُستغنی اور پھر صاحب أجناد و کتائب بھی ہو تم غیر بھی بیٹھے ہیں، اپنے بھی ہیں، گھیرا ڈالے مجھ میں اور تجھ میں وہ خلوت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں غلامی روس کی ہو؛ یا غلامی مغربیت کی کوئی بھی نام رکھ لے تو ؛ وہ ہے زنجیر لعنت کی نہیں ہے حرص کی حد؛ صبح و شام کھاتا ہے ۵۵ غضب خدا کا؛ کہ مال حرام کھاتا ہے