بیت بازی — Page 189
189 ۹۴ ۹۵ ۹۶ ۹۹ عزیزو! دل رہیں آباد؛ بس اس کی محبت سے بنو زاہد ؛ کرو اُلفت نہ ہرگز مال و دولت سے عدو یہ چاہتا ہے؛ ہم کو لامکاں کردے ہمیں بھی آئے گی امداد؛ لامکاں سے آج عشق خُدا نے خول چڑھایا تھا اس کے گرد انگار بھی؛ خلیل یہ گلزار ہوگئے ناز بردار نازنیں راتیں ۹۷ عاشقوں کیلئے ہیں اک رحمت ۹۸ عِشقِ خُدا کی مے سے بھرا جام لائے ہیں ہم مصطفیٰ کے ہاتھ پہ اسلام لائے ہیں عاشق بھی گھر سے نکلے ہیں؛ جاں دینے کیلئے تشریف آج وہ بھی سر بام لائے ہیں عابد کو عبادت میں مزا آتا ہے قاری کو تلاوت میں مزا آتا ہے عبث ہیں باغ احمد کی تباہی کی یہ تدبیریں چھپی بیٹھی ہیں تیری راہ میں ؛ مولیٰ کی تقدیریں عرب؛ جو ہے میرے دلبر کا مسکن بُوئے خوش اس کی لے کر آرہی ہیں عاشق تو وہ ہے جو کہ کہے اور سُنے تری دنیا سے آنکھ پھیر کے؛ مرضی کرے تیری عشق کی سوزش نے آخر کر دیا دونوں کو ایک وہ بھی حیراں رہ گیا؛ اور میں بھی حیراں ہو گیا 11 ۱۰۲ ۱۰۴ ۱۰۵ 1۔4 کلام حضرت خليفة المسيح الثالث عیسی کو چرخ پر نہ بٹھاتے، تو خُوب تھا احمد کو خاک میں نہ سُلاتے، تو خُوب تھا عالم کو میں معطر کردوں گا اس مہک سے خوشبو سے جس کی ہر دَم مدہوش میں رہوں گا