بیت بازی — Page 170
170 ۱۷۷ سبھی کو وہی رزق پہنچا رہا ہے ہر اک اپنے مطلب کی شے کھا رہا سانس رکتے ہی اس کا؛ اے محمود! تیر اک دل کے آر پار گیا ۱۷۹ ۱۸۱ ۱۸۲ ۱۸۳ ۱۸۴ ساری عرضوں کا پر ملا یہ جواب ہم نے گنج مانا ؛ ترا قرار گیا ۱۸۰ سیر کروا دے مجھے تو عالم لاہوت کی کھول دے تو باب مجھ پر؛ رُوح کے اسرار کا سرگرانی میں عمر گزری ہے سروری بخش سر فرازی بخش سَيّد الأنبيــــــــــاء کی امت کو جو ہوں غازی بھی؛ وہ نمازی بخش سر مستی سے خالی ہے؛ دل عشق سے عاری ہے بیکار گئے اُن کے سب ساغر و پیمانے سوؤں تو تجھ کو دیکھ کر ؛ جاگوں تو تجھ پہ ہو نظر موت سے تھا کیسے دریغ؛ اس کا ہی انتظار تھا ۱۸۵ سعی پیہم اور سج عافیت کا جوڑ کیا مجھ کو ہے منزل سے نفرت؛ تجھ کو منزل کی تلاش ۱۸۶ سوا لاک تیرے میخانے کے سب کے خانے خالی ہیں پلائے گر نہ تو مجھے کو؟ تو پھر میں کیا کروں ساقی ۱۸۷ سالوں تک اپنا منہ نہ دکھایا کرے کوئی یوں تو نہ اپنے دل سے بھلایا کرے کوئی سوز دروں نے جوش جو مارا؛ تو دیکھنا خود شمع بن گئے؟ مجھے پروانہ کر دیا سامنے آنے سے میرے؛ جس کو ہوتا تھا گریز دل میں میرے آچھیا؛ غیروں سے پنہاں ہو گیا سرور روح جو چاہے؛ تو دل کی سُن آواز کہ تار دل ہی کو چنگ و رباب کہتے ہیں ۱۸۸ ۱۸۹ 190 ۱۹۱ ۱۹۲ ۱۹۳ ۱۹۴ ۱۹۵ ۱۹۶ سُنانے والے افسانے ہما کے کبھی دیکھے بھی ہیں؛ بندے خُدا کے سُبُوئے دل کو ڈبوتا ہوں؛ جوئے رحمت میں مجھے ہے ساغر و مینا و جام سے کیا کام جو ہو گیا سوار؛ تو پھر اُسے رکاب سے مطلب ؛ نگام سے کیا کام سميد عزم سجدة بارگہ بھی بوجھل ہے کیا کریں وہ نڈھال ہیں ایسے ساری دنیا میں مشک پھینکیں گے میرے بھی کچھ غزال ہیں ایسے ہیں لطف سب کام مرے تجھ بن؛ اے جاں! سے خالی؛ آ بھی جا ۱۹۷ سب اور تصور تو میرے دل سے مٹے ہیں اک تری تصویر؛ جو مٹتے نہیں مٹتی ہے ۱۹۸ سر میں ہیں افکار؛ یا اک بادلوں کا ہے ہجوم دل مرا سینہ میں ہے؛ یا قطرہ سیماب ہے