بیت بازی

by Other Authors

Page 171 of 871

بیت بازی — Page 171

171 ۱۹۹ ۲۰۱ ۲۰۲ ۲۰۳ ۲۰۵ ۲۰۶ ۲۰۷ ۲۰۸ ۲۰۹ ۲۱۰ سر پہ حاوی وہ حماقت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں کفر و بدعت سے، وہ رغبت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں ۲۰۰ ساعت وصل آرہی ہے قریب ہو رہے ہیں بجا حواس میرے سچ بیٹھا ہے اک کونے میں منہ اپنا جھکا کر اور جھوٹ کے اُڑتے ہیں؛ فضاؤں میں غبارے سرود و ساز و رقص و جام انگوری وئے خواری پھر اس کے ساتھ تکبیریں بھی ہیں ؛ کیسی ہے خود داری؟ سچ ہے کہ فرق دوزخ و جنت میں ہے خفیف پائی نجات دام سے؛ اک دانہ چھوڑ کر ۲۰۴ سُنا کرتے ہیں دل کی حالت ہمیشہ کبھی آپ نے بھی ہے اپنی سُنائی ساتھی بڑھیں گے تب؛ کہ بڑھاؤ گے دوستی دل غیر کا بھی تم کو لبھانا ہی چاہیئے سو بار توبہ توڑ کر جھکتی نہیں میری نظر جھکتی ہے ناکردہ گنہ ان کی نگاہ شرمگیں سب ہی ہو جائیں مسلماں؛ تیری تقدیر نہیں یا دُعاؤں میں ہی میری؛ کوئی تاثیر نہیں سبق آزادی کا دیتے ہیں دل عاشق کو اُن کی زُلفوں میں کوئی زُلف گرہ گیر نہیں ساری دُنیا سے ہے بڑھ کر ؛ حوصلہ ان کا بلند پھینکتے ہیں عرش کے کنگوروں پر اپنی کمند ۲۱ سُن لے ندائے حق کو، یہ اُمت؛ خُدا کرے پکڑے بزور دامن ملت؛ خُدا کرے ۲۱ سننے لگے وہ بات تمھاری بذوق و شوق دُنیا کے دل سے دُور ہو نفرت؛ خُدا کرے سایہ فگن رہے وہ تمھارے وجود پر شامل رہے خُدا کی عنایت؛ خُدا کرے سو سو حجاب میں بھی نظر آئے اُس کی شان تم کو عطا ہو ایسی بصیرت؛ خُدا کرے ساری دنیا کے پیاسوں کو کروں میں سیراب چشمه شور بھی ہوں گر مجھے میٹھا کردیں سایہ کفار سے رکھیو مجھے باہر ہمیش اے میرے قدوس ! اے میرے ملیک بحر و بر سمجھتے ہو؟ کہ یہ سب کچھ ہمارے ساتھ کیوں ہوگا؟ یہ ظلم ناروا کس وجہ سے ہم پر روا ہوگا؟ ۲۱۷ سایہ ہے تیرے سر پہ خُدائے جلیل کا دشمن کے جور و ظلم سے ہے کیوں نڈھال تو سستی نے خُون قوم کا چوسا ہے اس طرح جو سربراه کار تھے؛ بے کار ہو گئے سینہ میں جوش غیرت؛ اور آنکھ میں کیا ہو کب پر ہو ذکر تیرا؛ دل میں تیری وفا ہو سے ہوائیں آرہی ہیں میرے دل کو بہت گرما رہی ہیں ۲۱۲ ۲۱۳ ۲۱۴ ۲۱۵ ۲۱۶ ۲۱۸ ۲۱۹ ۲۲۰ سمندر