بیت بازی — Page 168
168 ۱۳۵ ۱۳۷ ۱۳۸ ۱۳۹ الده ۱۴۱ ۱۴۲ سوچتا رہتا ہوں کیا دل میں مجھے کیا فکر ہے بجستجھ میں کس کی چلاتا ہوں میں دیوانہ وار سر نگوں ہوں میں ؛ مِثال سایۂ دیوار کیوں پشت کیوں کم ہے؛ ہوا ہوں اس قدر کیوں زیر بار سرو بھی ہیں سرو قد رہتے اُسی کے سامنے تمریاں بھی ہیں محبت میں اُسی کی؛ بے قرار سب حسینانِ جہاں؛ اُس کے مقابل پیچ ہیں ساری دنیا سے نرالا ہے؛ وہ میرا شہریار ساری دُنیا میں کرو تم مشتہر اُس کی کتاب تاکہ ہوں بیدار وہ بندے؛ جو ہیں غفلت شعار سنگ باری سے بھی ان کو کچھ نہ ہوگا اجتناب بے جھجک دکھلائیں گے وہ؛ تم کو تیغ آب دار سر نگوں ہو جائیں گے؛ دشمن تمہارے سامنے ملتجی ہوں گے برائے عفو وہ؛ باحال زار جس کی اُمیدیں مر چکی ہوں زندوں میں وہ پھر شُمار کیوں ہو سب ۱۴۳ سر میں ہے جوشِ جنوں؛ دل میں بھرا ہے نور و علم میں نہ دیوانوں میں شامل ہوں ؛ نہ ہشیاروں میں ہوں ساری دُنیا چھوڑ دے؛ پر میں نہ چھوڑوں گا تجھے درد کہتا ہے؛ کہ میں تیرے وفاداروں میں ہوں ۱۴۴ ۱۴۵ ۱۴۶ ۱۴۷ ۱۴۸ ۱۴۹ یستم و جور بڑھ گیا حد سنیں عشق پیارو ہے انتها کبھی سے نکل گئی ہے دار سُن مُمدعی ! نہ بات بڑھا؛ تا نہ ہو یہ بات گوچہ میں اس کے شور مچانا پڑے ہمیں گے ہرگز نہ غیر کی ہم؛ بس ایک تیرے حضور میں ہی؛ نہ اس کے دھوکے میں آئیں گے ہم سیر اطاعت جھکا ئیں گے ہم سمجھتے کیا ہو کہ عشق کیا ہے؛ جو اس کی فرقت میں ہم پہ گزری؛ وہ قصہ سُنائیں گے ہم سر میں خوت نہ ہو ؛ آنکھوں میں نہ ہو کر ق غضب دل میں کینہ نہ ہو؛ لب پہ کبھی دُشنام نہ ہو سیلف ریسپکٹ کا بھی خیال رکھو تم بیشک یہ نہ ہو پر؛ کہ کسی شخص کا اکرام نہ ہو سچا مذہب بھی ہے؛ پر ساتھ دلائل ہی نہیں ایسی باتیں کسی احمق کو سُنائے کوئی ساغر حسن تو پُر ہے؛ کوئی ئے خوار بھی ہو ہے وہ بے پردہ؛ کوئی طالب دیدار بھی ہو سالک راہ یہی ایک ہے؛ منہاج وصول عِشق دلدار بھی ہو؛ صحبت ابرار بھی ہو ۱۵۴ ساتھ ہی چھوڑ دیا سب نے شب ظلمت میں ایک آنسو ہیں؛ لگی دل کی بجھانے والے ۱۵۰ ۱۵۱ ۱۵۲ ۱۵۳