بیت بازی

by Other Authors

Page 158 of 871

بیت بازی — Page 158

158 زمانہ دشمن جاں ہے، نہ اس کی جانب پھر تو اُس کو اپنی مدد زمانہ کو حاصل ہو نُورِ نبوت کیلئے بلا تو سہی جو سیکھے قوانین و دستور ہم سے زمیں سے ظلمت شرک؛ ایک دم میں ہوگی دُور ہوا جو جلوہ نما؛ لا إله إِلَّا الــــــــــه زمیں کا بوجھ ؛ وہ سر پر اُٹھائے پھرتے ہیں اک آگ ؛ سینہ میں اپنے دبائے پھرتے ہیں زمیں سے جھگڑا، فلک سے قضیہ نہیں ہے اک دم بھی چین آتا؟ یہاں ہے شور اور وہاں شور اور وہاں شرابہ خبر نہیں ان کو کیا ہوا ہے جہاں میں ہر طرف پھیلی وبا ہے و آسماں کی بادشاہت عطاء کی مجھ کو تیری بندگی نے زندگی اُس کی ہے دن اُس کے ہیں راتیں اُس کی وہ جو محبوب کی صحبت میں رہا کرتا ہے زندہ رہیں علوم تمھارے؛ جہان میں پائندہ ہو تمھاری لیاقت؛ خُدا کرے زخم دل؛ جو ہو چکا تھا مدتوں سے مندمل پھر ہرا ہونے کو ہے؛ وہ پھر ہرا ہونے کو ہے زمین و آسماں ہیں اس زمین زخم دل ہوگئے ہرے شاہد ہرے میرے ہر چمن سے؛ میں اشکبار آیا کلام حضرت خليفة المسيح الثالث زندہ خُدا سے دل جو لگاتے؛ تو خُوب تھا مُردہ جُوں سے جان چھڑاتے، تو خُوب تھا ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹