بیت بازی — Page 152
152 ۳۳ ۳۲ روح بھی پاتی نہیں کچھ چین قالب کے بغیر اُن کے مُنہ سے بھی نکل جاتا ہے؛ ہائے! قادیاں روکے کہتی ہے زمیں؛ گر نہ سنے نام خدا ایسی بستی سے تو بہتر ہے بیاباں ہونا رکھ پیش نظر وہ وقت بہن جب زندہ گاڑی جاتی تھی گھر کی دیوار میں روتی تھیں جب دنیا میں تو آتی تھی ۳۴ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ام ۴۲ ۴۳ کلام طاهر ۳۵ رب عظیم کا بنده اعظم صلى الله عليه وسلم روتے روتے سینے پر سر رکھ کر سو گئی اُن کی یاد کون پیا تھا، کون پریمی؛ بھید نہ پایا ساری رات روٹھ کے پانی ساگر سے؛ جب بادل بن اُڑ جائے ساگر پاگل سا ہو کر؛ سر ساحل سے ٹکرائے راہ گیروں کے بیروں میں ٹھکانہ کر کے بے ٹھکانوں کو بنا ڈالا؛ ٹھکانے والے ٣٩ راہِ خدا میں منزلِ مرگ پہ سب مچل گئے ہم بھی رُکے رُکے سے تھے؛ اذن ہوا، تو چل پڑے ۴۰ روٹھا روٹھا غم کا مارا؛ وہ بادل آوارہ دیس سے ہو کے بدلیس، کسی انجانے دلیس کو جائے رسائی دیکھو کہ باتیں خدا سے کرتی ہے دعا؛ جو قلب کے تحت الترکی سے اُٹھی ہے رب نے آخر کام سنوارے گھر آئے پر ہا کے مارے آدیکھے، اونچے مینارے؛ نور خدا، تا حد نظر تھا راہ میں پر بت پاؤں پڑے بہلائے اور پھیلائے یار کسی کا اپنانے کو؛ حیلے لاکھ بنائے ۴۴ راگ موجوں کا بڑوں چھوٹوں کو بہلاتا تھا اب خیال آتا ہے؛ وہ اس کے ہی گن گاتا تھا روئیں گے تو اس کے حضور؛ مگر تم ہنس ہنس کر ہم نے ہر دُکھ سہنا ہوگا ربوہ میں آجکل ہے جاری نظام اپنا پر قادیاں رہے گا؛ مرکز مدام اپنا رات کے پردے میں چھپ چھپ کے تجھے یاد کیا دن نکل آیا تو دن تجھ سے ہی آباد کیا رکھ لاج کچھ ان کی میرے ستار! کہ یہ زخم جو دل میں چھپا رکھے ہیں؛ پھلے ہیں حیا کے راتوں کو خدا سے پیار کی لو اور صبح بتوں سے یارانے نادان گنوا بیٹھے دن کو جو یار کمایا ساری رات رات سجدوں میں اپنے رب کے حضور؛ جن کے ماں باپ اور کوئی نہ ہوں؛ اُن کے غم میں بھی آپ روتے ہیں اُن کے ماں باپ، آپ ہوتے ہیں سے ہم خرام چلو ۴۵ ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ ۵۰ ۵۱ ޏ رات جاگو و نجوم کے ساتھ دن کو سورج