بیت بازی — Page 151
151 ۱۱ رہیں خوشحال اور فرخندگی بجانا اے خدا! بک زندگی رات جو رکھتے تھے پوشاکیں برنگِ یاسمن صبح کردے گی انہیں مثل درختان چنار ۱۳ روشنی سے بغض ؛ اور ظلمت پہ وہ قربان ہیں ایسے بھی شیر نہ ہوں گے؛ گرچہ تم ڈھونڈو ہزار ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ در عدن راضی ہوں تم سے میں ؛ مرا اللہ بھی رہے اس کی رضا کی تم کو مسرت نصیب ہو راحت ہی میں نے تم سے بحرطور پائی ہے تم کو بھی دو جہان کی راحت نصیب ہو رفیق جاں مرے؛ یار وفا شعار میرے یہ آج پردہ دری کیسی؛ پردہ دار میرے رحمت کا رہے سایہ بڑھتا ہی رہے پایہ ہر وقت خدا رکھے آسائش و صحت سے رہتا نہیں پھر کوئی دل و عقل میں جھگڑا ہو جاتے ہیں دونوں ہی گرفتار محبت روتے ہیں خُلد میں عمرو عاص زارزار خالد کی روح جوش میں آتی ہے بار بار راہ حق میں جب قدم آگے بڑھادے ایک بار سر بھی کٹ جائے؛ نہ پھر پیچھے ہٹائے قادیاں رکھ تسلی؛ دل بیمار! ابھی آتے ہیں درد مزمن کی دوا؛ باعث راح وتسکیں راضی ہو خدا تم سے؛ شیطاں ہو جدا تم سے لبریز رہے سینہ؛ ایمان کی دولت سے کی جان رہا کوشاں پنے فتح محمد فدا راہبر بتا کہاں ہیں وہ قربان محمد دل مضطر انہیں کہاں پائے گزاری زندگی با کامرانی بہر تسکین و سکوں؛ مولا نے یہ مژدہ دیا رہی نصرت خدا کی شامل حال رحمت حق جوش میں آئی یہ حالت دیکھ کر رب ورور آپس میں اتفاق و مودت عطا کرے اپنا تمہیں اپنی محبت عطا کرے رکھا آنکھ میں مثل نور نظر پلایا خون جگر رود خدا کے سامنے آنسو بہاؤ تم آگ جس طرح سے بجھے؛ اب بجھاؤ تم ربّ کریم! فضل سے سُن لے دعائیں رحمت سے اپنی بخش ہماری خطائیں سب رہو دل سے تم دین کی اپنے شیدا کرو جان تک اس پر قربان طیب ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱