بیت بازی

by Other Authors

Page 131 of 871

بیت بازی — Page 131

131 خُدا سے بڑھ کے تم کو چاہنے والا ؛ نہیں کوئی کسی کا پیار بڑھ سکتا نہیں ہے؛ اس کی چاہت سے خُدا یا دُور کر دے ساری بدیاں تو مرے دل سے ہوا برباد ہے میرا سکوں، عقمی کی دہشت سے خُدا ہماری مدد پر ہے؛ جو کہ ہیں مظلوم مٹائے گا وہ عدو کو میرے؛ جہاں سے آج رگ خُدا کی رحمت مہر عالم تگ محبت پھڑک رہی ہے؛ افق کی جانب اُٹھ رہا ہے دل ایک شعلہ بنا ہوا ہے خود پلائی ہے مجھے مُعترض ! نازاں ہوں میں اس پر؟ ۱۵۸ ۱۵۹ 17۔۱۶۱ ۱۶۲ اُس نے مئے عرفان خاص که خدمت میں ہی عشق کا مزا ہے محمود جو دشمنان محمد خواروں میں ہوں بن؛ ایاز ہو جا سے ساز باز کرے ۱۳ خُدا کرے اُسے دُنیا و آخرت میں تباہ ۱۶۴ خُدا کرے؛ مِری سب عُمر یوں گزر جائے میں اس کے ناز اٹھاؤں؛ وہ مجھ پہ ناز کرے ہو رہی ہے میری گھر ؛ جسم چور ہے منزل خُدا ہی جانے؛ ابھی کتنی دُور ہے خوف سے تیرے رہے دل پر خطر پہنچے اس کو اھلِ دنیا سے نہ شر ۱۶۵ ۱۶۶ ثُم