بیت بازی — Page 122
122 ۵۰ ۵۱ ۵۲ ۵۳ ۵۴ ۵۵ ۵۷ ۵۸ ۵۹ حُسن حیف اس سر پہ کہ جو تابع فرمان نہ ہو تف ہے اس دل پہ کہ جو بندہ احسان نہ ہو حقیقی عشق گر ہوتا؟ تو سچی جستجو ہوتی تلاش یار ہر ہردہ میں ہوتی گوبگو ہوتی حُسنِ فانی سے نہ دل؛ کاش! لگائے کوئی اپنے ہاتھوں سے نہ خاک اپنی اُڑائے کوئی حُسنِ ظاہر پہ نہ تو بھول؛ کہ سوحسرت و غم چھوڑ جائے گا؛ بس آخر یہ تماشا ہوکر حق نے محمود! تیرا نام ہے رکھا محمود چاہیے تجھ کو چمکنا؟ ید بیضا ہو کر حق تعالے کی حفاظت میں ہوں میں ؛ یاد رہے وہ بچائے گا مجھے؛ سارے خطا گیروں سے ۵۶ حلقہ میں ملائکہ کے کھیلے ہردم رہے دُور اس سے شیطاں۔آمین ہے داد طلب؛ عشق تماشائی ہے لاکھ پردے میں وہ عریان ہوئے جاتے ہیں حیران ہوں کہ دن کسے کہتے ہیں، دوستو! سُورج ہی جب طلوع نہ ہو؛ تو سحر کہاں حدیثِ مدرسه و خانقاه مگو بَخُدا فتاد بر سر حـافـظ هـوائـے میـخـانـه حاضر نہ تھا وفات کے وقت ؛ اے مرے خدا! بھاری ہے یہ خیال؛ دل ریش و زار پر حرص و ہوا و رکبر و تغلب کی خواہشات چمٹی ہوئی ہیں دامن دل سے بلائیں کیا حیف اس پر ؛ جس کو رڈی جان کر پھینکا گیا ورنہ ہر ہر گل چمن کا؛ نذرِ جاناں ہوگیا کریم قدس کے سارکن کو؛ نام سے کیا کام ہو او حرص کے بندہ کو؛ کام سے کیا کام حقارت کی نگاہیں؛ ہیں سکڑتی محبت کی نگاہیں پھیلتی ہیں حق کی جانب سے ملا ہو ؛ جس کو تقویٰ کا لباس جسم پر اس کے اگر؛ گاڑھا بھی ہو کمخواب ہے حاصل ہو سکوں، چھوٹوں اگر دامن دلبر دامن کا مگر ہاتھ میں؟ کونا نہیں آتا حاکم رہے دلوں پر شریعت ؛ خُدا کرے حاصل ہو مُصطفے کی رفاقت؛ خُدا کرے حیات بخش وہ ؛ جس پر فنا نہ آئے کبھی نہ ہو سکے جو بہ؟ ایسا مال دے پیارے! حسن واحساں میں؛ نہیں ہے آپ کا کوئی نظیر آپ اندھا ہے؛ جو کرتا ہے بُرائی آپ کی حرام مال پر تو ؛ جان و دل سے مکرتا ہے وہ جس طرح سے بھی ہاتھ آئے ؛ گر گزرتا ہے ۶۰ ۶۱ ۶۲ ۶۳ ۶۷ ۶۸ ۶۹ 2۔۔