بیت بازی

by Other Authors

Page 121 of 871

بیت بازی — Page 121

121 ۲۹ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ حق نے جسے کر دیا کلام محمود دیا مامور حق سے محمود! بس اب اتنی دعا ہے میری جس نے ہم کو کیا خوش؛ رکھے اُسے وہ راضی حیف ہے قوم ! ترے فعلوں پر اور عقلوں پر دوست ہیں جو کہ ترے؛ اُن پہ تو کرتی ہے بستم حیرانی میں ایک دوسرے اُس دن یہ کہے گا؛ 'ہیں' یہ کیا ہے؟ تسلیم میں اُس کی؛ غذر کیا ہے حق کو کڑوا ہی بتاتے چلے آئے ہیں لوگ یہ نئی بات ہے؛ لگتا ہے وہ میٹھا ہم کو حیات جاوداں ملتی ہے اس سے کلام پاک ہی؛ آب بقا ہے حکم ربی سے یہ ہے پیچھے پڑا شیطان کے اس کے ہاتھوں سے؛ اب اس کا فیصلہ ہو جائے گا حق پہ ہم ہیں؛ یا کہ یہ حستاد ہیں، جھگڑا ہے کیا فیصلہ اس بات کا؛ روز جزا ہو جائے گا حالات پر زمانے کے؛ کچھ تو دھیاں کرو بے فائدہ نہ عمر کو یوں رائیگاں کرو حال دل کہنے نہیں دیتی؛ یہ بے تابی دل آوا سینہ سے تمھیں اپنے لگا لوں؛ تو کہوں حال یوں اُن سے کہوں ، جس سے وہ بیخود ہو جائیں کوئی چھتی ہوئی میں بات بنا لوں؛ تو کہوں ۴۰ حق کے پیاسوں کیلئے آپ بقا ہو جاؤ خشک کھیتوں کیلئے کالی گھٹا ہو جاؤ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۲ ۴۳ ۴۵ ۴۶ حقیقت کھول دی اُن پر ہماری مگر تاریکی دل ޏ ہیں مجبور حفیظہ جو میری چھوٹی بہن ہے نہ اب تک وہ ہوئی تھی اس میں رنگیں حالات پر أسرار ہیں دل مسکن افکار ہے ۴۴ حملہ کرتا ہے اگر دشمن؛ تو کرنے دو اُسے وہ ہے اغیاروں میں میں اُس یار کے یاروں میں ہوں حلال کھا؟ کہ ہے رزق حلال میں برکت زکوۃ دے؛ کہ بڑھے تیرے مال میں برکت حضور حضرت دیاں شفاعت نادم کرے گا روز جزا؛ لا إله إلا الله حُسن اس کا نہیں کھلتا؛ تمہیں یہ یاد رہے دوش مسلم پہ اگر چادر احرام نہ ہو حُسن ہر رنگ میں اچھا ہے؛ مگر خیال رہے دانہ سمجھے ہو جسے تم؛ وہ کہیں دام نہ ہو ۴۹ کشمر کے روز نہ کرنا؛ ہمیں رسوا و خراب پیار و آموخته درس وفا خام نہ ہو ۴۷ ۴۸