بیت بازی

by Other Authors

Page 120 of 871

بیت بازی — Page 120

120 حسرتوں سے میرا دل پر ہے کہ کیوں منکر ہو تم یہ گھٹا اب جھوم جھوم آتی ہے دل پر بار بار حلت و حرمت کی کچھ پروا نہیں باقی رہی ٹھونس کر مردار پیٹوں میں، نہیں لیتے ڈکار حشر جس کو کہتے ہیں؟ اک دم میں برپا ہو گیا ہر طرف میں مرگ کی آواز تھی؛ اور اضطرار حاجتیں پوری کریں گے؛ کیا تیری عاجز بشر کر بیاں سب حاجتیں؛ حاجت روا کے سامنے حاذق طبیب پاتے ہیں تم سے یہی خطاب خوبوں کو بھی تو تم نے مسیحا بنا دیا درٌ عَدَن حسن رقم ناز ہے؛ مضمون نگار کو پھر کاتبوں کو حسن کتابت پہ ناز ہے حق نے بندوں ذوالجلال رحم فرمایا ایک نمونہ بنا کے دکھلایا کے محبوب جس کی خاطر ہوئی بنائے جہان حافظ خدا رہا ؛ میں رہی آج تک امیں جس کی تھی؛ اب اسے اب اسے یہ امانت نصیب ہو حکم فرمایا 'قلم تھامے ہوئے میداں میں آ' صفحہ قرطاس سے رو کر؛ عدو کے وار کا حق و باطل میں کرے گی چشم بینا امتیاز ہو گیا آخر نمایاں فرق نور و نار کا حسرتیں نظروں میں لے کر صورتیں سب کی سوال اب کہاں تسکین ڈھونڈیں؛ بے سہارے دل حزیں کلام طاهر حبس کیسا ہے میرے وطن میں؛ ہے ایک رستہ، جو آزاد ہے؛ رواں کیلئے صلى الـــلــــه عليــــه وســلــم جہاں پا بہ زنجیر ہیں ساری آزادیاں یورش سیل اشک حضرت سید ولد آدم حیا سے عاری سیه بخت نیش زن؛ مَردُود واہ واہ ؛ کسی کربلا سے اٹھی ہے حیات نو کی تمنا؛ ہوئی تو ہے بیدار مگر نیند کی ماتی دعا سے اٹھی اٹھی ہے حال دل خراب تو کوئی نہ پاسکا نہ پاسکا چین جبیں سے اہلِ جہاں بدگماں رہے حسن کی چاندنی ނ تابنده پھول چہرہ کھلا کھلا سا تھا حمد و ثناء کے نغمے گاؤ گل برساؤ أردو کلاس "1 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸