بیت بازی

by Other Authors

Page 117 of 871

بیت بازی — Page 117

117 ۴۶ ۴۸ ۴۹ ۵۱ ۵۴ ۵۵ ۵۶ ۵۷ چاہا اگر خُدا نے تو دیکھو گے جلد ہی چاروں طرف ہے شور بپا؛ الامان کا ۲۷ چونکہ توحید پہ ہے زور دیا ہم نے آج اپنے بیگانے نے چھوڑا ہے اکیلا ہم کو چہرہ پہ اس مریض کے کیوں رونق آگئی جو کل تلک تھا سخت ضعیف اور ناتواں چیزیں ہزاروں ڈاک میں بھیجو؛ تم آج کل نقصان اس میں کوئی نہ کوئی زبان ہے ۵۰ چھوٹوں بڑوں کی چین سے ہوتی ہے یاں بئر نے مال کا خطر ہے؛ نہ نقصان جان ہے چڑھے ہیں سینکڑوں ہی سولیوں پہ ہم منصور ہمارے عشق کا اک دار پر مدار نہیں ۵۲ چکھائے گی تمھیں غیرت خدا کی جو کچھ اس یک زبانی کا مزا ہے ۵۳ چھوڑ دو اعمال بد کے ساتھ بد محبت بھی تم زخم سے انگور مل کر؛ پھر ہرا ہو جائے گا چھپا ہے ابر کے پیچھے نظر آتا نہیں مجھ کو میں اس کے چاند سے چہرہ پر قرباں ہو نہیں سکتا چھپیں وہ لاکھ پر دوں میں ؛ ہم ان کو دیکھ لیتے ہیں خیال رُوئے جاناں؛ ہم سے پنہاں ہو نہیں سکتا چھائی ہوئی ہے اُس پہ بھلا مُردنی یہ کیوں؟ جیسے کہ وقت صبح، دیا ہو بُجھا ہوا چہرہ دکھلا دے مجھے صدقے میں اُن آنکھوں کے دامن اُن کا کبھی آنکھوں سے لگائوں تو کہوں چیونٹی پہ بوجھ اونٹ کا ہے کون لادتا اس جاں اور یہ ستم روزگار ہو چھوڑ دو، جانے بھی دو؛ سُنتا ہوں یہ بھی ہے علاج ڈالتے ہو میرے زخم دل پہ تم تیزاب کیوں چھوڑتے ہیں غیر سے مل کر تجھے یا الہی! اس میں کیا اسرار ہے چھوڑے جاتے ہیں مجھے ہوش وکو اس وعقل کیوں کیوں نہیں باقی رہا دل پر مجھے کچھ اختیار چھوڑ دو رنج و عداوت؛ ترک کرد و بغض و کیں پیار و الفت کو کرو تم جان و دل سے اختیار چھوڑ دو غیبت کی عادت بھی کہ یہ اک زہر ہے رُوحِ انسانی کو ڈس جاتی ہے یہ مانند مار ؛ ۶۴ چشمه انوار؛ میرے دل میں جاری کیجئے پھر دکھا دیجے مجھے عُنوانِ رُوئے آفتاب چھینے گئے ہیں ملک سب؛ باقی ہیں اب شام و عرب پیچھے پڑا ہے ان کے اب دشمن؛ لگائے تانقب چڑھے تو نام نہ لے ڈوبنے کا پھر وہ کبھی کچھ ایسی ہو میرے یوم الوصال میں برکت چاروں اطراف سے گھرے ہیں ہم آگے پیچھے ہمارے ۵۸ ۵۹ ۶۰ ۶۱ ۶۲ ۶۳ ۶۶ ۶۷ ہیں حستاد