بیت بازی — Page 103
103 ۱۷۲ ۱۷۳ ۱۷۴ جہاں شیطان، مومن پر رمی کرتے ہیں؛ وہ راہیں جہاں پتھر سے مردحق کو سر ٹکرانا آتا ہے جہاں پسران باطل عورتوں پر وار کرتے ہیں نر مردان کو یہ شیوہ مردانہ آتا ہے جس رُخ دیکھیں؛ ہرمن موہن تیرا گکھڑ اہی تکتا ہے ہر اک محسن نے تیرے حسن کا ہی احسان اُٹھایا ہے ۱۷۵ جب مالی داغ جدائی دے مرجھا جاتے ہیں گل بوٹے دیکھیں فرقت نے کیسے پھول سے چہروں کو گملا یا ہے جائیں جائیں ہم روٹھ گئے؟ جب ہم خوابوں کی باتیں ہیں؟ ۱۷۶ 122 IZA اب آکر پیار جتائے ہیں جو آنکھیں مند گئیں اور رو رو کر؛ گھل کے جو چراغ بجھے ہم یادوں کے سائے ہیں ان کی پچھلی یادوں میں؟ بیٹھے نیز بہائے ہیں اب اُن کے بعد، آپ اُن کیلئے؟ گھل جو صبح کا تکتے تکتے ހހ اندھیاروں میں خواب ہوئے کیا خاک سویرے لائے ہیں ۱۷۹ ۱۸۰ ۱۸۱ ۱۸۲ ۱۸۳ ۱۸۴ جو درد سکتے ہوئے حرفوں میں ڈھلا ہے شاید کہ یہ آغوشِ جُدائی میں پلا ہے جس کہ میں وہ کھوئے گئے ؟ اُس رہ پہ گدا ایک کشکول لئے چلتا ہے؛ لب پہ یہ صدا ہے رہ جو آه؛ سجده صبر و رضا سے اُٹھی ہے زمین بوس تھی؛ اس کی عطا سے اُٹھی ہے جو دل میں بیٹھ چکی تھی ؟ ہوائے عیش و طرب بڑے جتن سے ہزار التجا سے اُٹھی ہے جو گلاب کے کٹوروں میں شراب ناب بھر دے وہ نسیم آه؛ پھولوں کے نکھار تک تو پہنچے جو نہیں شمار اُن میں؛ تو غُراب پر شکستہ تیرے پاک صاف بگلوں کی قطار تک تو پہنچے جھٹپٹوں میں اُنہی یادوں سے وہی کھیلیں گے کھیل وہی گلیاں ہیں، وہی صحن؛ چوبارے ہیں وہی جب اُس کا اذن نہ آیا؛ خطا گئی فریاد رہی نہ آہ کرشمه؛ نه چشم کم اعجاز جانے یہ دکھ ہے تمہارا؟ کہ زمانے کا ستم اجنبی ہے کوئی مہمان چلا آیا ہے ۱۸۸ جو کر سکے تھے کیا؟ غیر ہمیں بنا نہ سکے ہم اب بھی اپنے ہیں؛ اپنا شمار کر دیکھو ۱۸۹ جو اُس کے ساتھ اُسی کی دعا سے اُترا ہے مائدہ ہے؛ ڈشوں میں اُتار کر دیکھو جو ہو سکے تو ستاروں کے راستے کاٹو کوئی تو چارہ کرو؛ کچھ تو کار کر دیکھو ۱۸۵ ۱۸۶ 1^2 19-