بیت بازی

by Other Authors

Page 97 of 871

بیت بازی — Page 97

97 ۵۴ ۵۵ ۵۶ لا ۵۸ ۵۹ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۶ ۶۷ جب ہے یہی اشارہ؛ پھر اس سے کیا ہے چارہ جب تک نہ ہوویں گیارہ لڑکے؛ روا یہی ہے جب ہو گئے ہیں ملزم ؛ اُترے ہیں گالیوں پر ہاتھوں میں جاہلوں کے؛ سنگِ بنا یہی ہے جلد آ پیارے ساقی! اب کچھ نہیں ہے باقی دے شربت تلاقی حرص و ہوا یہی ہے جلد آمرے سہارے غم کے ہیں بوجھ بھارے منہ مت چھپا پیارے! میری دوا یہی ہے سہارے!غم جب سے ملا وہ دلبر دشمن ہیں میرے گھر گھر دل ہو گئے ہیں پتھر؛ قدر و قضا یہی ہے جسے حاجت رہے غیروں کی دن رات بھلا اس کو خدا کہنا ہی کیا بات جب اس نے ان کی گنتی بھی نہ جانی کہاں من من کا ہو انتر گیانی غم میرے ہوش؛ طور دنیا کے بھی بدلے؛ دیوانے کے دن ہے سے دیں کے ہیں جاتے رہے ایسے جگر کا ٹکڑا مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک خو تھا وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے ہمارے دل کو حزیں بنا کر جاڑے کی رُت؛ ظہور سے اس کے پلٹ گئی عشق خدا کی آگ؛ ہر اک دل میں آٹ گئی جتنے درخت زندہ تھے؛ وہ سب ہوئے ہرے پھل اس قدر پڑا؛ کہ وہ میووں سے لد گئے جھوٹ اور سچ میں جو ہے فرق وہ پیدا ہوگا کوئی پا جائے گا عزت؛ کوئی رُسوا ہوگا جس دیں کا صرف قصوں پہ سارا مدار ہے وہ دیں نہیں ہے؛ ایک فسانہ گذار جو معجزات سنتے ہو قصوں کے رنگ میں ان کو تو پیش کرتے ہیں سب بحث و جنگ میں جتنے ہیں فرقے؛ سب کا یہی کاروبار ہے قصوں میں معجزوں کا بیاں بار بار ہے جس کو تلاش ہے؛ کہ ملے اس کو کردگار اس کیلئے حرام؛ جو قصوں ہو نثار جب سے کہ قصے ہو گئے مقصود راہ میں آگے قدم ہے قوم کا ہر دم گناہ میں ا۔جس کو خدائے عزوجل پر یقیں نہیں اس بدنصیب شخص کا کوئی بھی دیں نہیں جس مئے کو پی لیا ہے؛ وہ اس مئے سے مست ہیں سب دشمن ان کے؛ انکے مقابل میں پست ہیں جب دشمنوں کے ہاتھ سے وہ تنگ آتے ہیں جب بدشعار لوگ انہیں کچھ ستاتے ہیں جب ان کے مارنے کیلئے چال چلتے ہیں جب ان سے جنگ کرنے کو باہر نکلتے ہیں ۶۸ ۶۹ 4۔۷۲ ۷۳ ۷۴