بیت بازی

by Other Authors

Page 86 of 871

بیت بازی — Page 86

86 ۲۳۹ ۲۴۰ ۲۴۱ ۲۴۳ ۲۴۴ ۲۴۶ تیرے آگے ہاتھ پھیلاؤں نہ گر کس کے آگے؛ اور پھیلاؤں کہاں تسلی پا گیا تو کس طرح؟ تب لطف تھا سالک کہ آنکھیں چار ہوتیں؛ اور باہم گفتگو ہوتی تشنہ لب ہوں بڑی مدت سے خُدا شاہد ہے بھر دے اک جام تو؛ گوشر کے لٹانے والے! ؛ ۲۳۲ تجھ کو تیری ہی قسم؛ کیا یہ وفاداری ہے دوستی کر کے مجھے دل سے بھلانے والے! تاقیامت رہے جاری؛ یہ سخاوت تیری او میرے گنج معارف معارف کے لٹانے والے! تشنگی میری نہ پیالوں سے بجھے گی ہرگز کم کالم لے کے مرے منہ سے لگائے کوئی ۳۳۵ تو کہے؛ اور نہ مانے میرا دل، ناممکن کس کی طاقت ہے؛ ترے حکم کو ٹالے، پیارے! تیری زمیں ہے رہن کیوں؟ ہاتھ میں گہر سخت کے تیری تجارتوں میں ہے؛ صبح و مسا زبان کیوں تجھ کو اگر خبر نہیں، اس کے سبب کی؟ مجھ سے سُن ! تجھ کو بتاؤں میں ؛ کہ برگشتہ ہوا جہان کیوں تم میں وہ زور، وہ طاقت ہے اگر ؛ چاہو تو چھلنی کر سکتے ہو تم پشت عدد تیروں سے تم بھی گر چاہتے ہو کچھ تو جھکو اس کی طرف فائدہ کیا تمھیں اس قسم کی تدبیروں سے تم میرے قتل کو نکلے تو ہو؛ پر غور کرو! شیشے کے ٹکڑوں کو، نسبت بھلا کیا؟ ہیروں سے توفیق ملے اُسے عمل کی کامل ہو ہر اک چہت سے ایماں؛ آمین ۲۴۷ ۲۴۸ ۲۴۹ ۲۵۰ ۲۵۱ ۲۵۴ ۲۵۵ رات دن اشکبار رہتا ہے ۲۵۲ تیرے عاشق کا کیا بتائیں حال ۲۵۳ تیری خدمت میں یہ ہے عرض بصد عجز و نیاز قبضہ غیر میں؛ اے جان! مری جان نہ ہو تو ہے مقبول الہی بھی؛ تو یہ بات نہ بھول سامنے تیرے کوئی موسیٰ عمران نہ ہو تجھ میں ہمت ہے؛ تو کچھ کر کے دکھا دُنیا کو اپنے اجداد کے اعمال پر نازان نہ ہو تھوڑی سی بھی تکلیف مری؛ اُن یہ گراں تھی کرتے نہ تھے اک کانٹے کا چھنا بھی گوارا تکلیف میں؛ ہوتا نہیں کوئی بھی کسی کا احباب بھی کر جاتے ہیں؛ اُس وقت کنارہ تیری تعلیم میں کیا جادو بھرا ہے، مرزا ! جس سے حیوان بھی؛ انسان ہوئے جاتے ہیں ۲۵۶ ۲۵۷ ۲۵۸ ۲۵۹ مجھے ہے غم ہی تمھیں تریاق مُبارک ہو، مجھے زہر کے گھونٹ اچھا مجھے غم کھانے رو