بیت بازی — Page 853
853 ۲۲ ۲۳ ۲۴ یہ بات کیا ہوئی؟ کہ وہ تم سے الگ رہا کچھ بھی مدد نہ کی؟ نہ سنی کوئی بھی دعا یا تو اک عالم تھا قرباں اُس پہ؛ یا آئے یہ دن ایک عبدالعبد بھی اس دیں کے جھٹلانے کو ہے یہ سب نشاں ہیں جن سے دیں اب تلک ہے تازہ اے گرنے والو! دوڑو؛ دیں کا عصا یہی ہے یہ ہے خیال ان کا پربت بنایا تنکا پر کیا کہیں؛ جب ان کا فہم وذکا یہی یہ حکم دید کے ہیں؛ جن کا ہے یہ نمونہ ویدوں سے آریوں کو حاصل ہوا یہی ۲۷ یوسف تو سُن چکے ہو؛ اک چاہ میں گرا تھا یہ چاہ سے نکالے؛ جس کی صدا یہی ہے ۲۵ ۲۶ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ہے ہے یہ کیا عادت ہے؛ کیوں کچی گواہی کو چھپاتا ہے تری اک روز ؛ اے گستاخ! شامت آنیوالی ہے یا یہ کہ اب خدا میں وہ رحمت نہیں رہی نیت بدل گئی ہے؛ وہ شفقت نہیں رہی دکھائیے ورنہ گزاف قصوں ہرگز نہ جائیے یہ ایسے مذہبوں میں کہاں ہے راہ تنگ ہے؛ پہ یہی ایک راہ ہے دلبر کی، مرنے والوں پہ ہردم نگاہ ہے بروں کا دعویٰ سنا ہے ابھی کہ بعد اُن کے ملہم نه ہوگا کبھی اور یہی پیر ہے یہ چولہ کہ قدرت کی تحریر ہے یہی رہنما؛ یہ تینوں تیرے بندے؛ رکھیو نہ ان کو گندے کر ان سے دُور یا رب! دنیا کے سارے دھندے ۳۵ یہی اک فیر شان اولیاء ہے بجز تقوی؛ زیادت ان میں کیا ہے یہ میرے رب سے میرے لئے اک گواہ ہے یہ میرے صدق دعوئی پر مہر الہ ہے ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ام ۴۲ در عدن یہ برکت سب اسلام کی ہے تعلیم اس رحمت عام کی ہے جو نسخہ تسکیں وہ لایا؛ دل مسلم کا ٹھیراتا ہے یہ خونِ جگر سے پالنے والے تیرا خون بہاتے تھے جو نفرت تیری ذات سے تھی فطرت پر غالب آتی تھی یہ راحتِ جاں، نور نظر تیرے حوالے یارب! میرے گلشن کا شجر تیرے حوالے یہ شاخ قلم کرتا ہوں؛ پیوند کی خاطر اتنا تھا میرا کام؛ ثمر تیرے حوالے مولا! میرا نایاب پدر تیرے حوالے یہ نازش صد شمس و قمر؛ تیرے حوالے یزیدی فعل زبانوں پہ یا علی توبہ یہ اور تیر چلے؛ آل مرتضی کیلئے