بیت بازی — Page 691
691 دست کوتا هـم کـجـا اثـمـار فردوسی کجا شاخ طوبی کو ہلا دے؛ ہاں ہلا دے آج تو درس الفت ہی نہ گر پایا؛ تو کیا پایا بتا گر محبت کے سکھا دے؛ ہاں سکھا دے آج تو دُنیا کے گوشہ گوشہ میں پھیلا ہوا ہے گند ہر ہر قدم پہ؛ ہوش سے دامن سنبھال تو دل مت چھوڑو پیارو! اپنا سر لہروں میں اُٹھاتے جاؤ دامنِ دل پھیلتا جاتا ہے بے حد و حساب دھجیاں اس کی اڑا دے؛ ہاں اڑا دے آج تو == 'ڈ' سے 'و' ڈ سے شروع ہو کر 'و' پرختم ہونے والے اشعار ) تعداد گل اشعار در ثمین کلام محمود 2 1 1 در ثمین که ا ڈھونڈو وہ راہ؛ جس سے دل وسینہ پاک ہو نفس دنی خدا کی اطاعت میں خاک ہو کلام محمود ڈھانپتے رہتے ہیں ہردم دوسروں کے عیب کو ہیں چھپاتے رہتے وہ؛ دُنیا جہاں کے عیب کو ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱