بیت بازی — Page 53
53 بھٹکے درد وہ جب درٌ عَدَن کر مصیبت اُٹھا کر ملایا تمہیں اس دنیا میں لا کر کبھی انہیں رستہ بتا دیا بھولے سبق جو کوئی اُسے پھر پڑھا دیا ۷۵ 22 بند کر کے نه آنکھ منه کھولے کاش سوچے ذرا عدد بخدا! ہے عدیل احمد شان رب جلیل احمد ہے ہے وے بحر رحمت نے جوش فرمایا بن کے جو تو آیا ۸۰ ناز حضرت آدم عر و خلیل احمد ہے باعث بھیج درود اُس محسن پر؛ تو دن میں سوسوبار پاک محمد مصطفی " نبیوں کا سردار بیافتم به طفيل۔جنت من زگوش هوش بکــن گـوش هـر شـهـادت مــن بار گنہ بلا ہے؛ میرے سر سے ٹال دو جس رہ سے تم ملو؛ مجھے اس رہ پہ ڈال رو بس اک نظر سے عقدہ دل کھول جائیے دل لیجئے مرا مجھے اپنا بنائیے Al ۸۲ ۸۳ ۸۴ ۸۵ ΛΥ ۸۷ ۸۸ بصد تکریم جاتے ہیں جلو میں فرشتے چادر انوار تانے بڑا بدبخت ہے؛ ظالم ہے بندہ بیٹھا دے گا دل میں محبت خدا کی جو اس تمہیں سے عہد کرکے توڑتا ہے بنا دے گا انسان طیب شکست بلبل ہوں ؛ صحن باغ سے دُور اور شکستہ پر پروانہ ہوں؛ چراغ سے دور اور ۸۹ بس ایک درد ہو؛ کہ رہو جس سے آشنا محبوب جاوداں کی محبت نصیب ہو 9° بچے ہنستے ہیں خوشی سے؛ تو بڑے ہیں دلشاد جذبہ شوق کے ظاہر ہیں؛ جبیں پر آثار ہے じ بیمار کو ہے ناز؛ کہ نازک مزاج ہوں جو تندرست ہیں؛ انہیں صحت بروئے کار ہے شیطاں نقاب برانداز بدی کو خوب ہے ہم کیوں کہیں ریا کیلئے بلا قریب کہ یہ خاک پاک ہو جائے نہ کر یہاں میری مٹی خراب جانے دے بن جاؤ خدا کے تم؟ آجائے گی خود دنیا جوڑے ہوئے ہاتھوں کو تر عرق ندامت سے بھولے بھالے منہ سے وہ باتیں نرالی آن سے ننھے منے پاؤں سے چلنا وہ اس کا شان سے ۹۱ ۹۲ ۹۳ ۹۴ ۹۵