بیت بازی — Page 45
45 ۸۶۳ ۸۶۴ ۸۶۵ ۸۶۶ ۸۶۹ 121 ۸۷۳ اُٹھتا رہے اس کی آواز پہ پھر کیوں نہیں کہتے لیگ طوق گردن میں نہیں؛ پاؤں میں زنجیر نہیں ان کی جادو بھری باتوں پر مرا جاتا ہوں قتل کرتے ہیں؛ مگر ہاتھ میں شمشیر نہیں اصطبل میں گھوڑے ہیں بھینسیں بھی ہیں کچھ شیر دار سبزے کی کثرت سے گھر بھی بن رہا ہے مرغزار آج کوئی بھی نظر آتا نہیں سارکن ہمیں ایک مسلم ہے؛ کہ ہے آرام سے بیٹھا ہوا ۸۶۷ ان کا شیوہ؛ نیک فنی ، نیک خواہی ہے سدا آنے دیتے ہی نہیں دل میں کبھی بھی ریب وہ ۲۸ اک طرف تیری محبت اک طرف دُنیا کا درد دل پھٹا جاتا ہے، سینے میں؛ ہے چہرہ زرد زرد ایک بیماری سے گھائل؛ ایک فکروں کا شکار دیکھئے دنیا میں باقی دیکھئے دُنیا میں باقی یہ رہے یا وہ رہے ۸۷۰ ان کے سینوں میں اُٹھا کرتے ہیں طوفاں رات دن وہ زمانہ بھر میں دیوانے تیرے مشہور ہیں احسان و لطف عام رہے؛ سب جہان پر کرتے رہو ہر اک سے مُروت؛ خدا کرے ۸۷۲ اخلاص کا درخت بڑھے آسمان تک بڑھتی رہے تمھاری ارادت؛ خدا کرے ترقی کی جانب قدم ہمیش ٹوٹے کبھی تمھاری نہ ہمت؛ خدا کرے ۸۷۴ آج مسلم کو جو ملتی ہے ولایت واللہ سب ترے حصہ میں آئی تھی؛ ہے تیرا احساں اے خدا! دل کو میرے مزرع تقویٰ کر دیں ہوں اگر بد بھی؛ تو تو بھی مجھے اچھا کر دیں ۸۷۶ احمدی لوگ ہیں دنیا کی نگاہوں میں ذلیل اُن کی عزت کو بڑھائیں؛ انہیں اُونچا کر دیں اپنے ہاتھوں سے ہوئی ہے مری صحت برباد میری بیماری کا اب آپ مداوا کر دیں آپ تو ہیں مالک ارض و سما؛ اے میری جاں! آپ کا خادم مگر پھرتا ہے کیوں؟ یوں دربدر آدم اول سے لے کر وہ ہے زندہ آج تک ایسی طاقت دے کچل ڈالوں میں آب شیطاں کائر ۸۸۰ آج سب مسلم خواتیں کی ہیں عریاں زیتیں تو نے فرمایا تھا؛ ہے پردے سے باہر ما ظهر الہی! تو بچا لے سب مسلمانوں کو ذلت سے کہ جو کچھ کر رہے ہیں؛ کر رہے ہیں وہ جہالت سے ۸۸۲ اگر رہنا ہو راحت سے، تو یہ کامل قناعت سے کبھی بھی پر نہ ہو تیری زباں؛ حرف شکایت سے اُٹھے! اور اُٹھ کے دیکھا زور حُبّ مِلت کا یہ التجا ہے مری؛ پیر اور جواں سے آج ۸۸۴ انہیں کے نام سے زندہ رہے گا نام وطن گھروں سے نکلیں گے جو ؛ ہاتھ دھو کے جاں سے آج ALO ALL ALA 729 ΑΛΙ