بیت بازی

by Other Authors

Page 524 of 871

بیت بازی — Page 524

524 کلام طاهر یہ پُر اسرار دھندلکوں میں سمویا ہوا غم چھا گیا روح پہ اک جذبۂ مہم بن کر یہ فضاؤں میں سسکتا ہوا؟ احساس الم دیدہ شب سے ڈھلکنے لگا؛ شبنم بن کر کلام محمود یہ چھپ کے کیوں چٹکیاں ہے لیتا؟ جو شوق ہو دل کو چھیڑنے کا؟ بھلا کس کا ڈر پڑا ہے تو شوق بر ملا میلا کر یہی ہے دن رات میری خواہش؛ مٹاؤں پھر بیقراری دل؛ گلے سے اُس کو لگالگا کر که کاش مل جائے وہ پری رُو یہ چمن، یہ باغ ، یہ بتاں، بیگل، یہ پھول سب کرتے ہیں اس ماہ رو کی قدرتوں کو آشکار یوں اندھیری رات میں اے چاند! تو چپکا نہ کر حشر اک سیمیں بدن کی یاد میں برپا نہ کر یک قلم ملک سے موقوف ہوئے شورش وشر نہ تو رہزن کا رہا کھٹکا؟ نہ چوروں کا ڈر ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸