بیت بازی — Page 523
523 یا کسی مخفی گنہ سے شامت اعمال ہے جس سے عقلیں ہوگئیں بیکار اور اک مُردہ وار فتوحات نمایاں؛ یہ تواتر سے نشاں کیا یہ ممکن ہیں بشر سے؛ کیا یہ مکاروں کا کار یہ جو طاعوں ملک میں ہے؛ اس کو کچھ نسبت نہیں اس بلا سے؛ وہ تو ہے اک حشر کا نقش ونگار یہ خوشی کی بات ہے؛ سب کام اس کے ہاتھ ہے وہ جو ہے دھیما غضب میں؛ اور ہے آمرزگار یہ غلط کاری بشر کی بدنصیبی کی ہے جو پر مقدر کو بدل دینا ہے کس کے اختیار یہ اگر انساں کا ہوتا کاروبار؛ اے ناقصاں ! ایسے کاذب کے لئے؛ کافی تھا وہ پروردگار یہ کہاں سے سُن لیا تم نے؛ کہ تم آزاد ہو کچھ نہیں تم پر عقوبت؛ گو کرو عصیاں ہزار یہ بھی کچھ ایماں ہے یارو! ہم کو سمجھائے کوئی جس کا ہر میداں میں پھل حرماں ہے اور ذلت کی مار عقیده برخلاف گفته دادار ہے پر اُتارے کون برسوں کا گلے سے اپنے ہار یہ وہ گل ہے؛ جس کا ثانی باغ میں کوئی نہیں یہ وہ خوشبو ہے؛ کہ قُرباں اس پہ ہو مشک تتار یہ وہ ہے مفتاح؛ جس سے آسماں کے در کھلیں یہ وہ آئینہ ہے؛ جس سے دیکھ لیں روئے نگار نہیں اک اتفاقی امر تا ہوتا علاج ہے خدا کے حکم سے یہ سب تباہی اور تبار یہ عجب آنکھیں ہیں؛ سورج بھی نظر آتا نہیں کچھ نہیں چھوڑ ا حسد نے ؛ عقل اور سوچ اور بیچار یہ مصیبت کیا نہیں پہنچی خدا کے عرش تک کیا یہ شمس الدیں نہاں ہو جائیگا اب زیر غار یا تو وہ عالی مکاں تھے زینت وزیب جلوس ہوئے اک ڈھیر اینٹوں کے پُر از گردوغبار یقیں ہے؛ کہ نانگ تھا ملہم ضرور کا پاس؛ اے پر غرور یہ چولہ تھا اُس کی دعا کا اثر یہ قدرت کے ہاتھوں کا تھا سربسر یہ تینوں تیرے چاکر ہوویں جہاں کے رہبر یہ ہادی جہاں ہوں؛ یہ ہوویں نوریکسر کیا احساں تیرا ہے بندہ پرور کروں کس منہ سے شکر؛ اے میرے داور یہ گماں مت کر ا کہ یہ سب بد گمانی ہے معاف قرض ہے؛ واپس ملے گا تجھ کو یہ سارا اُدھار در عدن نہ کر یارب! یہی دعا ہے؟ کہ ہر کام ہو بخیر اکرام لازوال ہو؛ انعام ہو بخیر ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ 1 ۱۸ 19 ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱