بیت بازی

by Other Authors

Page 380 of 871

بیت بازی — Page 380

380 ۵۰ ۵۱ ۵۳ ۵۴ ۵۵ ۵۸ ۶۰ کبھی میں بھی کسی کا تھا مطلوب یا مجھے بس یونہی لگا سا تھا کیا علم تھا؟ کہ راہ میں دیکھے گا قیص کو دیکھا تو ڈر سے سینہ میں دل ہی اُچھل پڑا کلام محمود گیسو کی طرح دراز ہو جا ۵۲ کوتاه نگاہیاں کب تک کوئی عالم کبھی اس ملک میں آجاتا تھا اس ملک میں آجاتا تھا دیکھ کر اس کا یہ حال؛ اشک بہا جاتا تھا کام وہ کر کے دکھایا کہ جو ناممکن تھا آئے جب ہند میں وہ کیا ہی مبارک دن تھا کہتے ہیں وہ امام تمھارا؛ تمھیں سے ہے جو ہے بڑی ہی شوکت و جبروت و شان کا ۵۶ کچھ یاس و ناامیدی کو دل میں جگہ نہ دو اب جلد ہوچکے گا یہ موسم خزان کا ۵۷ کافر بھی کہہ اُٹھیں گے کہ سچا ہے وہ بزرگ دعوی کیا ہے جس نے؛ مسیح الزمان کا کیا تم کو نہیں خوف رہا روز جزا کا یوں سامنا کرتے ہو جو؛ محبوب خُدا کا ۵۹ گفر مٹ جائے گا؛ زور اسلام کا ہو جائے گا ایک دن حاصل ہمارا مدعا ہو جائے گا کیوں نہ گرداب ہلاکت سے نکل آئے گی قوم کشتی ہیں کا خُدا جب ناخُدا ہو جائے گا کر لو، جو کچھ موت کے آنے سے پہلے ہو سکے تیر چھٹ کر موت کا؛ پھر کیا خطا ہو جائے گا؟ کوئی گیسو مرے دل سے پریشاں ہو نہیں سکتا کوئی آئینہ مجھ سے بڑھ کے حیراں ہو نہیں سکتا کوئی یاد خدا سے بڑھ کے مہماں ہو نہیں سکتا وہ ہو جس خانہ دل میں؛ وہ ویراں ہو نہیں سکتا کوئی مجھ سا گناہوں پر پشیماں ہو نہیں سکتا کوئی کیوں غفلتوں پر اپنی گریاں ہو نہیں سکتا کیا تھا پہلے دل کا خون اب جاں لے کے چھوڑیں گے دیت کا بھی تو میں اس ڈر سے خواہاں ہو نہیں سکتا کیا جانیے؛ کہ دل کو میرے آج کیا ہوا کس بات کا ہے اس کو یہ دھڑکا لگا ہوا کیوں اس قدر یہ رنج و مصیبت میں چور ہے کیوں اس سے امن وعیش ہے بالکل چھٹا ہوا کیوں اس کی آب و تاب وہ مٹی میں مل گئی ؟ جیسے ہو خاک میں کوئی موتی میلا ہوا ؛ کیا غم ہے؛ اور درد ہے کس بات کا اسے کس رنج اور عذاب میں ہے مبتلا ہوا کیا آپ ہی کو نیزہ چھونا نہیں آتا؟ یا مجھ کو ہی تکلیف میں رونا نہیں آتا บ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۶ ۶۷ ۶۸ ۶۹ 2۔